Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Sunday, April 24, 2011

...بیداریاں

شب کی بیداریاں نہیں اچھی
اتنی مے خواریاں نہیں اچھی

وہ کہیں کبریا نہ بن جائے
ناز برداریاں نہیں اچھی

ہاتھ سے کھو نہ بیٹھنا اس کو
اتنی خودداریاں نہیں اچھی

کچھ رواداریوں‌کی مشق بھی کر
صرف ادا کاریاں نہیں اچھی

اے غفور الرحیم سچ فرما
کیا خطا کاریاں نہیں اچھی

....دُوری

پیارے لمحے آئیں گے اور مجبوری مٹ جائے گی
ہم دونوں مل جائیں گے اور سب دُوری مٹ جائے گی
ہر دم بہانے والی آنکھوں کی مالا بھی ٹوٹے گی
تیری میری ہستی اس بیری بندھن سے چھوٹے گی
لیکن یہ سب باتیں ہیں اپنے جی کے بہلانے کی
دکھ کی رات میں دھیرے دھیرے دل کا درد مٹانے کی
روتے روتے ہنستے ہنستے رُکتے رُکتے گانے کی
سکھ کا سپنا سوکھا ہے اور سوکھا ہی رہ جائے گا
سونی سیج پہ پریم کہانی پریمی یوں کہہ جائے گا
ہوتے ہوتے سارا جیون آنکھوں سے بہہ جائے گا

...خبر

جیسے ہوتی آئی ہے، ویسے بسر ہو جائے گی
زندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی

گیسوئے عکسِ شبِ فرقت پریشاں اب بھی ہے
ہم بھی تو دیکھیں کہ یوں کیوں کر سحر ہو جائے گی

انتظارِ منزلِ موہوم کا حاصل یہ ہے
ایک دن ہم پر عنایت کی نظر ہو جائے گی

سوچتا رہتا ہے دل یہ ساحلِ اُمّید پر
جستجو، آئینۂ مدّ و جزر ہو جائے گی

درد کے مشتاق گستاخی تو ہے لیکن معاف
اب دعا، اندیشہ یہ ہے، کارگر ہو جائے گی

سانس کے آغوش میں ہر سانس کا نغمہ یہ ہے
ایک دن، اُمّید ہے اُن کو خبر ہو جائے گی

... محوِ جمال


دل محوِ جمال ہو گیا ہے
یا صرفِ خیال ہو گیا ہے

اب اپنا یہ حال ہو گیا ہے
جینا بھی محال ہو گیا ہے

ہر لمحہ ہے آہ آہ لب پر
ہر سانس وبال ہو گیا ہے

وہ درد جو لمحہ بھر رکا تھا
مُژدہ کہ بحال ہو گیا ہے

چاہت میں ہمارا جینا مرنا
آپ اپنی مثال ہو گیا ہے

پہلے بھی مصیبتیں کچھ آئیں
پر اب کے کمال ہو گیا ہے

....سو د ا ئی

ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ھے
میر ا جی د انا تو نہیں ھے ، عاشق ھے سو د ا ئی ھے

صبح سویرے کون سی صورت پھلواڑی میں آئی ھے
ڈالی ڈالی جھوم اٹھی ھے ، کلی کلی لہرائی ھے

جانی پہچانی صورت کو اب تو آنکھیں ترسیں گی
نئے شہر میں جیون دیوی نیا روپ بھر لائی ھے

ایک کھلونا ٹوٹ گیا تو اور کئی مل جائیں گے
بالک یہ انہونی تجھ کو کس بیری نے سمجھائی ھے

دھیان کی دھن ھے امر گیت ، پہچان لیا تو بولے گا
جس نے راہ سے بھٹکایا تھا وہی راہ پر لائی ھے

جب دل گھبرا جاتا ھے تو آپ ہی آپ بہلتا ھے
پریم کی ریت اسے جانو پر ہونی کی چترائی ھے

امیدیں ، ارمان سبھی جل دے جائیں گے جانتے تھے
جان جان کے دھوکے کھائے ، جان کے بات بڑھائی ھے

ایسے ڈولے من کا بجرا جیسے نین بیچ ھو کجرا
دل کے اندر دھوم مچی ھے ، جگ میں اداسی چھائی ھے

....بے نظیر

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں

تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں

پھول دامن میں چند رکھ لیجئے
راستے میں فقیر ہوتے ہیں

زندگی کے حسین ترکش میں
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

... نصیب عشق

نصیب عشق دلِ بےقرار بھی تو نہیں
بہت دنوں سے ترا انتطار بھی تو نہیں

تلافئ ستمِ روزگار کون کرے
تو ہم سخن بھی نہیں، رازدار بھی تو نہیں

زمانہ پرسشِ غم بھی کرے تو کیا حاصل
کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار بھی تو نہیں

تو ہی بتا کہ تری خاموشی کو کیا سمجھوں
تری نگاہ سے کچھ آشکار بھی تو نہیں

وفا نہیں نہ سہی، رسم و راہ کیا کم ہے
تری نظر کا مگر اعتبار بھی تو نہیں

اگرچہ دل تری منزل نہ بن سکا اے دوست!
مگر چراغِ سرِ رہگزار بھی تو نہیں

بہت فسردہ ہے دل، کون اس کو بہلاۓ
اُداس بھی تونہیں، بے قرار بھی تو نہیں

تو ہی بتا ترے بےخانماں کدھر جائیں؟
کہ راہ میں شجرِ سایہ دار بھی تو نہیں

فلک نے پھینک دیا برگِ گل کی چھاؤں سے دور
وہاں پڑے ہیں جہاں خارزار بھی تو نہیں

جو زندگی ہے تو بس تیرے درد مندوں کی
یہ جبر بھی تو نہیں، اختیار بھی تو نہیں

وفا ذریعۂ اظہارِ غم سہی ناصر
یہ کاروبارکوئ کاروبار بھی تو نہ نہیں

.....راز آشنا


ازل سے ، ساتھ کوئی راز آشنا تو نہیں
یہ میرا دل کسی شاہد کا آئنہ تو نہیں

ہر ایک سانس کے ساتھ ایک آہ گونجتی ہے
نفس نفس میں کسی درد کی ثنا تو نہیں

کسی کے خواب کی تعبیر تو نہیں ہیں ہم
وہ خواب اور کسی خواب سے بنا تو نہیں

جو کاٹ آئے ہیں ، دکھ کا عجیب جنگل تھا
جو آنے والا ہے ، پہلے سے بھی گھنا تو نہیں

صدائے انجم و مہتاب پر بھی دل خاموش
یہ خاکداں کی کشش ہے ، مری انا تو نہیں

یہ شش جہات ہیں اور ان کے بعد ہے اک ذات
اس آئنے میں پھر اپنا ہی سامنا تو نہیں ؟

...بھنور ڈوب گئے

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے اِدھر آتے ہوئے
کچھ بھنور ڈوب گئے آب میں چکراتے ہوئے

ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ رکھاہے
چھینا جھپٹی میں اُفق کھلتا گیا جاتے ہوئے

جھپ سے پانی میں اُتر جاتی ہے گلنار شفق
سُرخ ہوجاتے ہیں رُخسار بھی، شرماتے ہوئے

میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیری
شوخ پتے نے کہا شاخ سے مُرجھاتے ہوئے

حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح
ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا، جاتے ہوئے

سِی لئے ہونٹ وہ پاکیزہ نگاہیں سُن کر
میلی ہو جاتی ہے آواز بھی، دُہراتے ہوئے

Friday, April 22, 2011

...شبِ تنہائی

اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ ذندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دلِ صد چاک پر
وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ہیں ایک ایک سب
دل کا کنول جو روز و شب
رہتا شگفتہ تھا سو اب
اسکا یہ ابتر حال ہے
اک سبزۂ پا مال ہے
اک پھو ل کُملایا ہوا
ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا
روندا پڑا ہے خاک پر
یوں ہی شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی ناکامیاں
بیتے ہوئے دن رنج کے
بنتے ہیں شمعِ بےکسی
اور ڈالتے ہیں روشنی
ان حسرتوں کی قبر پر
جوآرزوئیں پہلے تھیں
پھر غم سے حسرت بن گئیں
غم دو ستو ں کی فوت کا
ان کی جواناں موت کا
لے دیکھ شیشسے میں مرے
ان حسرتوں کا خون ہے
جو گرد شِ ایام سے
جو قسمتِ ناکام سے
یا عیشِ غمِ انجام سے
مرگِ بتِ گلفام سے
خود میرے غم میں مر گئیں
کس طرح پاؤں میں حزیں
قابو دلِ بےصبر پر
جب آہ ان احباب کو
میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے
جس طرح طائر باغ کے
یا جیسے پھول اور پتیاں
گر جائیں سب قبل از خزاں
اور خشک رہ جائے شجر
اس وقت تنہائی مری
بن کر مجسم بےکسی
کر دیتی ہے پیشِ نظر
ہو حق سااک ویران گھر
ویراں جس کو چھوڑ کے
سب رہنے والے چل بسے
ٹو ٹے کواڑ اور کھڑ کیاں
چھت کے ٹپکنے کے نشاں
پرنالے ہیں روزن نہیں
یہ ہال ہے، آ نگن نہیں
پردے نہیں، چلمن نہیں
اک شمع تک روشن نہیں
میرے سوا جس میں کوئی
جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
وہ خانۂ خالی ہے دل
پو چھے نہ جس کو دیو بھی
اجڑا ہوا ویران گھر
یوں ہی شب تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دل صد چاک پر

۔۔۔۔نادر کاکوروی