Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Wednesday, October 13, 2010

... آنچل کی ہوا


گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھکو
اُنگلیاں پھیر کے بالوں میں سلادے مجھکو

جسطرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
اپنے گھر کے کسی کونے سے لگادے مجھکو

یاد کرکے مجھے تکلیف ہی ہوتی ہوگی
ایک قصہ ہوں پُرانا سا بھُلا دے مجھکو

ڈوبتے ڈوبتے آواز تری سنُ جاؤں
آخری بار تو ساحل سے صدا دے مجھکو

میں ترے ہجر میں چپ چاپ نہ مرجاؤں کہیں
میں ہوں سکتے میں کبھی آکے رُلا دے مجھکو

دیکھ میں ہوگیا ہوں بدنام کتابوں کی طرح
میری تشہیر نہ کر اب تو جلادے مجھکو

روٹھنا تیرا میری جان لئے جاتا ہے
ایسے ناراض نہ ہو، ہنس کے دکھا دے مجھکو

لوگ کہتے ہیں کہ یہ عشق نگل جاتا ہے
میں بھی اس عشق میں آیا ہوں، دعا دے مجھکو

....کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا



وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا،
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو اُدھورا چھوڑ دیا

فیض احمد فیض

.....اضطراب


وہ آئے اور کلبئہ غم میں دِیا نہ تھا
مَیں نے جہاں کو پھوُنک دیا اضطراب میں

...... اثاثے

شبِ حیات کی تاریکیوں سے گھبرا کر
جلا کے گھر کے اثاثے کو روشنی کرلی

......کانچ کے خواب


جیسے جاگی ہوئی آنکھوں میں چبھیں کانچ کے خواب
رات اس طرح دیوانوں کی بسر ہوتی ہے

........تو کوئی بات بنے

تم میرے دل میں سماؤ تو کوئی بات بنے

پھر کبھی دور نا جاؤ تو کوئی بات بنے


پیار کہنے سے تو بات نہیں بنتی

پیار بنا کے دکھاؤ تو کوئی بات بنے

ہم تو چپ چاپ سے رہتے ہیں مگر

تم کبھی آ کے ہنساؤ تو کوئی بات بنے


ساتھ دینے کی تو سب بات کیا کرتے ہیں

تم اگر ساتھ نبھاؤ تو کوئی بات بنے


روٹھو سو بار ہم سے شکایت نا ہو گی

روٹھ کے مان بھی جاؤ تو کوئی بات بنے

یہ آنکھیں ہر دم اُداس رہا کرتی ہیں

ان میں کوئی خواب سجاؤ تو کوئی بات بنے

.......یہ زندگی


یہ زندگی کچھ ایسی ہے جیسے الجھے ہوئے دھاگے
ٹـوٹـے ہـوئـے نـکـلے جنـہـیـں سمـجھـا کہ سـرے ہـیـں

...........عشق و عبادت


آرام کہاں، عشق و عبادت میں بھی دل کو
بت کوئی مقابل ہے تو مطلُوب کوئی ہے

...........مزاجِ یار


خشک تنکوں سے گھر بنا رہے ہو محسن
یہ جانتے بھی ہو کہ مزاجِ یار آگ جیسا ہے

....... یاد

تیرا درد تھا تیری یاد تھی میں جہاں گیا میں جدھر گیا
میرا دن تو یوں ہی گزر گۓ جونہی شب ہوئی میں بکھر گیا
اِس ابر کا میرے یار سے بڑا ملتا جلتا مزاج تھا
کبھی ٹوٹ کے یہ برس گیا، کبھی بے رخی سے گزر گیا