Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Tuesday, December 21, 2010

ترانہ درد


سمجتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہ درد
سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سنا نہ گیا

آج بھی شام اداس رہی


آج بھی شام اداس رہی
آج بھی تپتی دھوپ کا صحرا
ترے نرم لبوں کی شبنم
سائے سے محروم رہا
آج بھی پتھر ہجر کا لمحہ صدیوں سے بے خواب رتوں کی
آنکھوں کا مفہوم رہا
آج بھی اپنے وصل کا تارا
راکھہ اڑاتی شوخ شفق کی منزل سے معدوم رہا
آج بھی شہر میں پاگل دل کو
تری دید کی آس رہی
مدت سے گم صم تنہائی، آج بھی میرے پاس رہی
آج بھی شام اداس رہی

تہمت

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے
جس ليے آئے تھے سو ہم وہ کر چلے
زندگي ہے يا کوئي طوفاں ہے
ہم تو اس جينے کے ہاتھوں مر چلے
کيا ہميں کام ان گلوں سے اے صبا
ايک دم آئے ادھر اُدھر چلے
دوستوں ديکھا تماشا ياں کا سب
تم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے
آہ بس موت جي جلا تب جانئيے
جب کوئي افسوں ترا اس پر چلے

کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا

یا رب غمِ ہجراں میں‌ اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دعا ہوتا
اک عشق کا غم آفت اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
ناکامِ تمنا دل اس سوچ میں‌رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سناتم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا


خیالات

وقت کی آنچ پر پتھر بھی پگھل جاتے ہیں
قہقہے ٹوٹ کر اشکوں میں بکھر جاتے ہیں
کون نبھاتا ہے کسی کا ساتھ عمر بھر
وقت کے ساتھ خیالات بھی بدل جاتے ہیں

کس کے نام لکھوں

میں یہ کس کے نام لکھوں جو اَلَم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں

کوئی غُنچہ ہو کہ گُل ہو، کوئی شاخ ہو شجَر ہو
وہ ہَوائے گلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں

کبھی رَحمتیں تھیں نازِل اِسی خِطّہ زمیں پر
وہی خِطّہ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں

وہی طائروں کے جھُرمَٹ جو ہَوا میں جھُولتے تھے
وہ فَضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں


چلو وعدہ رہا

اب نہیں نیند میں آئیں گے، چلو وعدہ رہا
آپ کا ساتھ نبھائیں گے، چلو وعدہ رہا

عہد یہ ترک محبت کا میری جان نہیں توڑیں گے
آپ کو ہم نا بھلائیں گے، چلو وعدہ رہا

شب کی تنہائی میں تم یاد اگر آۓ بھی
ایک بھی آنسو نا بہائیں گے، چلو وعدہ رہا

روٹھ جانے پہ نا جوڑیں گے کبھی اپنے ہاتھ
تجھکو ہرگز نا منائیں گے، چلو وعدہ رہا

اپنے اجڑے ہوۓ اس دل کے نہا خانوں میں
تیری صورت نا سجائیں گے، چلو وعدہ رہا

لے تیرے حکم پہ ہم شہر تیرا چھوڑ چلے
اب نہیں لوٹ کے آئیں گے، چلو وعدہ رہا

اب محبت کی نا امید رکھیں گے تجھ سے
دل میں ارماں نا بسائیں گے، چلو وعدہ رہا


مثال


کھو گئی ہوں کہیں محبت میں
بازیابی محال ہے میری
کوئی دیوانگی نہیں ہے یہ
حالت ِ اعتدال ہے میری
لوگ صدموں سے مر نہیں جاتے
سامنے کی مثال ہے میری

تیری یاد


ذہن کے خیالوں میں
روح کے اُجالوں میں
زندگی کی جھیلوں میں
ذات کی فصیلوں میں
رت جگوں کے دامن میں
خواہشوں کے آنگن میں
دل کے خشک صحرا میں
چشمِ تر کے دریا میں
درد کے جہاں میں بھی
اشکِ بے زباں میں ‌بھی
اور کچھہ نہیں رہتا
تیری یاد رہتی ہے

وہ سال دوسرا تھا يہ سال دوسرا ہے


وہ سال دوسرا تھا يہ سال دوسرا ہے
جب تم سے اتفاقاً ميری نظر ملی تھی
کچھ ياد آرہا ہے شائد وہ جنوری تھی
پھر مجھ سےيوں ملے تھےتم ماہِ فروری ميں
جيسے کہ ہمسفر ہو تم راہِ زندگی ميں
کتنا حسين زمانہ آيا تھا مارچ لے کر
راہِ وفا پہ تھے تم جلتے چراغ لے کر
اس وقت ميرے ہمدم اپريل چل رہا تھا
دنيا بدل رہی تھی موسم بدل رہا تھا
ليکن مئی جو آئی جلنے لگا زمانہ
ہر شخص کی زباں پہ تھا بس يہی فسانہ
دنيا کے ڈر سے تم نے بدلی تھيں جب نگاہيں
تھا جون کا مہينہ لب پہ تھيں گرم آہيں
ماہِ اگست ميں جب برسات ہو رہی تھی
بس آنسوؤں کي بارش دن رات ہو رہی تھی
اس ميں نہيں کوئی شک وہ ماہ تھا ستمبر
بھيجا تھا تم نے مجھ کو ترکِ وفا کا ليٹر
تم غير ہو رہے تھے اکتوبر آ گيا تھا
دنيا بدل چکی تھی موسم بدل چکا تھا
جب آگيا نومبر ايسی بھی رات آئی
مجھ سے تمھيں چھڑانے سج کر بارات آئی
بے کيف تھا دسمبر جذبات مر چکے تھے
ان حادثوں سے ميرے ارماں ٹھٹھر چکے تھے
ليکن ميں کيا بتاؤں اب حال دوسرا ہے
وہ سال دوسرا تھا يہ سال دوسرا ہے