Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Monday, October 11, 2010

یوں تو ادھوری ھے داستان عشق اپنی


یوں تو ادھوری ھے داستان عشق اپنی

پس پردہ ہیں مضمر افسانے کئ اور

مالیء چمن ہی نہیں ھے شامل سازش

خار بھی ہیں گُلوں کے مہربان خاص کئ اور

دُشمن تو دُشمن ہیں،اُن سے گلہ ہی کیا

رقیب اپنے بھی ہیں آشیان کے لُٹیرے کئ اور

بربادئ دل کے مُجرم تو ہیں چند شناسا لوگ مگر

ہیں ایک نقاب کے پیچھے چھُپے چہرے کئ اور

بات نکلی تو نام ہو گا اُس کا بھی بدنام

شہر قتل میں ہیں دفن راز اُس کے کئ اور

کیسے سہہ پاؤ گے درد جگر اب کہ ایاز

تیر بن کے لفظ نکل آئیں گے کئ اور
__________________

Sunday, October 3, 2010

.........مری طرح

اُس سے اِک بار تو رُوٹھوں میں اُسی کی مانند

اور مری طرح سے وہ مُجھ کو منانے آئے

.......دامن

اس سمت سمیٹوں تو بکھیرتا ھے ادھر سے
دکھ دیتے ھوئے یار نے دامن نہیں دیکھا۔۔

.......دامن

اس سمت سمیٹوں تو بکھیرتا ھے ادھر سے
دکھ دیتے ھوئے یار نے دامن نہیں دیکھا۔۔

.........سفر

وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں

.........معتبر

وہ درخت جن پر پرندوں کے گھر نہیں ھوتے
دراز جتنے بھی ھوں , معتبر نہیں ھوتے

.........واسطہ


دیکھ کہ دُنیا کو ہم بھی بدلیں گے اب اپنا مزاج ِدوستی
رابطہ تو سب سے ہوگا لیکن واسطہ کسی سے نہیں

.. دل...

دل کو تو پہلے ہی درد کی دیمک چاٹ گئی تھی
روح کو بھی اب کھاتا جائے تنہائی کا زنگ

انہی کے صدقے یا رب میری مشکل کر آسان
میرے جیسے اور بھی ہیں جو دل کے ہاتھوں تنگ

خیا ل

و ہ میر ی قبر پر آ یا
ا و ر کھل کہ ر و نہ سکا فر ا ز
کتنا خیا ل تھا ا س کو میر ے بے سکو ں ھو نے کا

تمہیں کیا معلوم

یہ بھی انداز ہمارے ہیں تمہیں کیا معلوم
ہم تمہیں جیت کے ہارے ہیں تمہیں کیا معلوم
ایک تم ہو کہ سمجھتے نہیں ہم کو اپنا
ایک ہم ہیں کہ تمہارے ہیں،تمہیں کیا معلوم