Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!
Tuesday, October 12, 2010
.......اعتبار
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
غالب
.....میری زندگی تو فراق ہے
میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ، وہ کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچئے دار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی
سرِ طور ہو، سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی، وہ کہیں سہی
نہ ہو اُن پہ جو مرا بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں اُن ہی کا تھا، میں اُن ہی کا ہوں، وہ مرے نہیں، تو نہیں سہی
جوہو وہ فیصلہ وہ سُنائیے، اسے حشر پر نہ اُٹھائیے
جو کریں گے آپ ستم وہاں، وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی
Monday, October 11, 2010
....ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو' کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو' اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی'یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسم کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو' کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کر بتاناہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
منیر نیازی
....محبت پھر محبت ہے
محبت پھر محبت ہے
کبھی دل سے نہیں جاتی
ہزاروں رنگ ہیں اس کے
عجب ہی ڈھنگ ہیں اس کے
کبھی صحرہ کبھی دریا
کبھی جُگنو کبھی آنسو
ہزاروں رُوپ رکھتی ہے
جسم جُھسلا کے جو رکھ دے
کبھی وہ دُھوپ رکھتی ہے
شبِ غم کے اندھیروں میں
دلوں کو آس دیتی ہے
کبھی منزل کنارے پر
پیاسا مار دیتی ہے
اذیت ہی اذیت ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
محبت پھر محبت ہے
..سانپ میں نے سنبھال رکھے تھے
سانپ میں نے سنبھال رکھے تھے
آستینون میں پال رکھے تھے
خود ہی غیروں کو اپنے گھر لا کر
اپنے سارے نکال رکھے تھے
ہم سے ہونی ہی تھی بری یارو
بڑے کم ذور ڈھال رکھے تھے
جان اپنی تھی ایک ہی لیکن
کیسے کیسے وبال رکھے تھے
ہائے مارے گئے وفاوں سے
ورنہ دھوکے مُحال رکھے تھے
مجھ پہ رحمت ہے خاص مالک کی
لوگ تو باکمال رکھے تھے
رات رانی کی بات کیا کہنا
ورد تو بے مثال رکھے تھے
حسن اُن کا ہی بھا گیا اظہر
اں سے بڑھ کر جمال رکھے تھے
آستینون میں پال رکھے تھے
خود ہی غیروں کو اپنے گھر لا کر
اپنے سارے نکال رکھے تھے
ہم سے ہونی ہی تھی بری یارو
بڑے کم ذور ڈھال رکھے تھے
جان اپنی تھی ایک ہی لیکن
کیسے کیسے وبال رکھے تھے
ہائے مارے گئے وفاوں سے
ورنہ دھوکے مُحال رکھے تھے
مجھ پہ رحمت ہے خاص مالک کی
لوگ تو باکمال رکھے تھے
رات رانی کی بات کیا کہنا
ورد تو بے مثال رکھے تھے
حسن اُن کا ہی بھا گیا اظہر
اں سے بڑھ کر جمال رکھے تھے
...کچھ اپنے من کی باتیں ہیں
کچھ اپنے من کی باتیں ہیں
کچھ یادیں،کچھ ملاقاتیں ہیں
بھُولی بسری چاہتیں ہیں
کچھ راتیں،کچھ برساتیں ہیں
پیارے سچّے لوگوں کی اچھوتی
کچھ انمول سی سوغاتیں ہیں
قصّے ہیں کچھ کانٹوں کے
کچھ پھُولوں کی وارداتیں ہیں
کہیں آگ لگی ہے بستی میں
کہیں محلوں کی عمارتیں ہیں
کشکول ہےپھُول سے ہاتھوں میں
کہیں جنموں کی امارتیں ہیں
کہیں محبّتوں کے ہیں انبار لگے
کہیں حقیر سی حقارتیں ہیں
کہیں جان ہے اٹکی سُولی پر
کہیں مسرّتوں کی سفارتیں ہیں
خدایا!تیری اس دنیا میں
کیسی عجب بجھارتیں ہیں
مُسکرا کر عدوءجان و دل سے بھی
سرعام ہاتھ ملاتے ہو تم ایاز
کتنی اندھی تیری رفاقتیں ہیں۔
کچھ یادیں،کچھ ملاقاتیں ہیں
بھُولی بسری چاہتیں ہیں
کچھ راتیں،کچھ برساتیں ہیں
پیارے سچّے لوگوں کی اچھوتی
کچھ انمول سی سوغاتیں ہیں
قصّے ہیں کچھ کانٹوں کے
کچھ پھُولوں کی وارداتیں ہیں
کہیں آگ لگی ہے بستی میں
کہیں محلوں کی عمارتیں ہیں
کشکول ہےپھُول سے ہاتھوں میں
کہیں جنموں کی امارتیں ہیں
کہیں محبّتوں کے ہیں انبار لگے
کہیں حقیر سی حقارتیں ہیں
کہیں جان ہے اٹکی سُولی پر
کہیں مسرّتوں کی سفارتیں ہیں
خدایا!تیری اس دنیا میں
کیسی عجب بجھارتیں ہیں
مُسکرا کر عدوءجان و دل سے بھی
سرعام ہاتھ ملاتے ہو تم ایاز
کتنی اندھی تیری رفاقتیں ہیں۔
.........آنسُو
کبھی ویران راہوں میں
کبھی انجان لمحوں میں
کبھی دن کی شہنائی میں
اور اس پل بھی
جب کوئی نہیں ہوتا
آکاش پہ تنہا چاند کو
جب میں دیکھا کرتا ہوں
تیرے ہجر کے احساس کی
تپتی ہوئی لُو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میرے چہرے کا رنگ بدلتی ہے
میرے ذہن کے دروازے پر یوں ہی
کبھی کبھی،ہر بار ایک اجنبی سا
فضُول سا سوال دستک دیتا ہے
اور پھر آنکھوں میں اُترتی ہوئی
بے نام سی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلکوں پہ آنے والی نمی بن کر
جسے لوگ آنسُو کہتے ہیں
بہہ جاتا ہے۔
کبھی دن کی شہنائی میں
اور اس پل بھی
جب کوئی نہیں ہوتا
آکاش پہ تنہا چاند کو
جب میں دیکھا کرتا ہوں
تیرے ہجر کے احساس کی
تپتی ہوئی لُو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میرے چہرے کا رنگ بدلتی ہے
میرے ذہن کے دروازے پر یوں ہی
کبھی کبھی،ہر بار ایک اجنبی سا
فضُول سا سوال دستک دیتا ہے
اور پھر آنکھوں میں اُترتی ہوئی
بے نام سی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلکوں پہ آنے والی نمی بن کر
جسے لوگ آنسُو کہتے ہیں
بہہ جاتا ہے۔
__________________
.......ناگن
اجنبی،تنہا اور سُنسان سا ویرانہ
اک دلربا،مہ جبیں،نازنیں کا فسانہ
وہ پلکیں اُٹھانا،وہ زُلف کا گرانہ
آئی وہ سحر،ہوا شام کا بہانہ
وہ ظالم ادائیں،وہ قاتل نگا ئیں
کبھی دلفریب بن کر مجھ کو لبُھائیں
کبھی تیر بن کر دل میں اتر جائیں
وہ کبھی سامنے آ کر ہمیں ستانا
وہ کبھی دُھندلکوں میں کہیں چھُپ جانا
جو کریں ہم شکوہء اعتراف محبت
تو ہمیں باتوں باتوں میں اُلّو بنانا
وہ باتوں کی طرّاری
وہ لفظوں کی خُماری
وہ منظر سُہانا
وہ آنکھوں کا سٹپٹانا
وہ دل کا مچلنا
وہ رُوح کا اترانا
وہ تشنگی،وہ دل لگی
وہ وابستگی،وہ آوارگی
وہ بے وجہ،بے سبب مینہ کا برسنا
وہ انجان سی منزل کے
انجان سے سپیرے کو جیسے
سرِراہ جنگل میں ناگن کا ڈسنا۔
اک دلربا،مہ جبیں،نازنیں کا فسانہ
وہ پلکیں اُٹھانا،وہ زُلف کا گرانہ
آئی وہ سحر،ہوا شام کا بہانہ
وہ ظالم ادائیں،وہ قاتل نگا ئیں
کبھی دلفریب بن کر مجھ کو لبُھائیں
کبھی تیر بن کر دل میں اتر جائیں
وہ کبھی سامنے آ کر ہمیں ستانا
وہ کبھی دُھندلکوں میں کہیں چھُپ جانا
جو کریں ہم شکوہء اعتراف محبت
تو ہمیں باتوں باتوں میں اُلّو بنانا
وہ باتوں کی طرّاری
وہ لفظوں کی خُماری
وہ منظر سُہانا
وہ آنکھوں کا سٹپٹانا
وہ دل کا مچلنا
وہ رُوح کا اترانا
وہ تشنگی،وہ دل لگی
وہ وابستگی،وہ آوارگی
وہ بے وجہ،بے سبب مینہ کا برسنا
وہ انجان سی منزل کے
انجان سے سپیرے کو جیسے
سرِراہ جنگل میں ناگن کا ڈسنا۔
......سب ہیں تمھارے
کل اور آج
صُبح شام
دن رات
ماہ و سال
زمیں و آسماں
چاند اور سُورج
بہار و خزاں
صبا اور شبنم
قلب و جاں
گُل اور خوشبو
نظر و فکر
اندھیرا اُجالا
سانسوں کی مالا
سُخن و کلام
گردش مدام
بادہ و جام
لالہ و گلُفام
پریم کے جوتی
ھیر ے موتی
اُڑتے بادل
بدلتے موسم
برستا ساون
اُداس پنچھی
احساس کی چُبھن
خیال کی جلن
ہجر کے جوگی
من کے روگی
وہ بستی،گاؤں
دھوپ اور چھاؤں
بہکتے شرار ے
آنکھوں کے تار ے
وہ مہ پار ے
جو ٹُوٹ کے اُتر ے
سار ے کے سار ے
جھیل کنار ے
تیر ے پیار کے استعار ے
میر ے راج دُلار ے
سب ھیں تمھار ے ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)