Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!
Wednesday, December 22, 2010
محبّت کا استعارہ
گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو
کوئی وجود محبّت کا استعارہ ہو
میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں
جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو
کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں ،کہیں مل لیں
یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
کہیں ہوا کا ہی اُس نے نہ رُوپ دھارا ہو
اُفق تو کیا ہے،درِ کہکشاں بھی چُھو آئیں
مُسافروں کو اگر چاند کا اشارہ ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو
اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے
میں چاہے نظم کا ٹکڑا، وہ نثر پارہ ہو
کوئی وجود محبّت کا استعارہ ہو
میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں
جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو
کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں ،کہیں مل لیں
یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
کہیں ہوا کا ہی اُس نے نہ رُوپ دھارا ہو
اُفق تو کیا ہے،درِ کہکشاں بھی چُھو آئیں
مُسافروں کو اگر چاند کا اشارہ ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو
اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے
میں چاہے نظم کا ٹکڑا، وہ نثر پارہ ہو
پروین شاکر
ایسا کہاں سے لاؤں کہ‘ تجھ سا کہیں جسے
آئینہ کیوں نہ دوں کہ‘ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ‘ تجھ سا کہیں جسے
حسرت نے لا رکھا‘ تری بزمِ خیال میں
گلدستۂ نگاہ‘ سویدا کہیں جسے
پھونکا ہے کس نے گوشِ محبت میں اے خدا!
افسونِ انتظار‘ تمنا کہیں جسے
سر پر ہجومِ دردِ غریبی سے‘ ڈالیے
وہ ایک مشتِ خاک کہ‘ صحرا کہیں جسے
ہے چشمِ تر میں حسرتِ دیدار سے نہاں
شوقِ عناں گسخیتہ‘ دریا کہیں جسے
در کار ہے‘ شگفتنِ گلہائے عیش کو
صبحِ بہار‘ پنبۂ مینا کہیں جسے
غالبؔ! برا نہ مان‘ جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
Tuesday, December 21, 2010
دسمبر
ہمارے حال پہ رویا دسمبر
وہ دیکھو ٹوٹ کر برسا دسمبر
گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو
مگر کٹتا نہیں تنہا دسمبر
بھلا بارش سے کیا سیراب ہوگا؟
تمہارے وصل کا پیاسا دسمبر
وہ کب بچھڑا؟ نہیں اب یاد لیکن
بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر
یوں پلکیں بھیگتی رہتی ہیں ایسے
میری آنکھوں میں جیسے آٹھہرا دسمبر
جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی
میری تنہائی اور میرا دسمبر
عشق کو کس نے سمجھا ہے
عشق کی باتیں سب کرتے ہیں ، عشق کو کس نے سمجھا ہے
پیاس بڑھے تو دریا ہے یہ ، پیاس گھٹے تو صحرا ہے
ظاہر و باطن
احباب کا شکوہ کیا کیجیئے خود ظاہر و باطن ایک نہیں
لب اوپر اوپر ہنستے ہیں دل اندر اندر روتا ہے
جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
یاد میں تیری، جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے، کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
او وفا کہتے ہوئے تجھ کو تو شرماتا ہوں میں
بے وفا کہتے ہوئے تجھ کو تو شرماتا ہوں میں
آرزؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زباں میں، دل کو سمجھاتا ہوں میں
محبت ہمسفر میری
کٹھن ہے زندگی کتنی
سفر دشوار کتنا ہے
کبھی پاؤں نہیں چلتے
کبھی رستہ نہیں ملتا
ہمارا ساتھ دے پائے
کوئی ایسا نہیں ملتا
فقط ایسے گزاروں تو
یہ روز و شب نہیں کٹتے
یہ کٹتے تھے کبھی پہلے
مگر ہاں اب نہیں کٹتے
مجھے پھر بھی میرے مالک
کوئی شکوہ نہیں تجھ سے
میں جاں پر کھیل سکتی ہوں
میں ہر دکھ جھیل سکتی ہوں
اگر تو آج ہی کر دے
محبت ہمسفر میری
اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے
اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام بھی ان کا
لکھتا کاغذ پہ ہوں تو حرف بگڑ جاتے ہیں
Subscribe to:
Posts (Atom)