Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Saturday, March 12, 2011

... اثا ثے

یا دوں کے اثا ثے ہیں میر ے پاس بہت سے 
کچھ وقت گذاری کی مجھے آس تو ر ہی

...عادت




یہ پل پل تجھ کو چاہنا اب میری عادت ہے ورنہ
ہے مغرور ہم اتنے جو تجھے کب کا بھلا دیتے





.........یا د

درد، وہ آگ کہ بجھتی نہیں ، جلتی بھی نہیں .
یاد، وہ زخم کہ بھرتا نہیں،رستا بھی نہیں.

احمد راہی 




...مسافت

یہ عمر بھر کی مسافت ہے دل بڑا رکھنا 
کہ لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے رستے میں

... کُرب


کُرب چہرے سے ماہ و سال کا دھویا جائے
آج فُرصت سے کہیں بیٹھ کے رویا جائے

پھر کسی نظم کی تمہید آُٹھائی جائے
پھر کسی جسم کو لفظوں میں سمویا جائے

کچھ تو ہو رات کی سرحد میں اُترنے کی سزا
گرم سورج کو سمندر میں ڈبویا جائے

اتنی جلدی تو بدلتے نہیں ہوں گے چہرے
گرد آلود ہیں، آئینے کو دھویا جائے

موت سے خوفزدہ، جینے سے بیزار ہیں لوگ
اس المیے پہ ہنسا جائے کہ رویا جائے

Sunday, March 6, 2011

...انتہا

ابھی مَیں ابتدا کے پیچ و خم ہی سے نہیں نِکلا

کوئی کہتا ہے دل میں، ماورائے انتہا ہو تم

...جھیل سی گہری آنکھوں میں

اُن جھیل سی گہری آنکھوں میں اِک شام کہیں آباد تو ہو
اُس جھیل کنارے پل دو پل
اِک خواب کا نیلا پھول کھلے
وہ پھول بہا دیں لہروں میں
اِک روز کبھی ہم شام ڈھلے
...اس پھول کے بہتے رنگوں میں
جس وقت لرزتا چاند چلے
اس وقت کہیں اُن آنکھوں میں اس بسرے پل کی یاد تو ہو
اُن جھیل سی گہری آنکھوں میں اِک شام کہیں آباد تو ہو
پھر چاہے عمر سمندر کی
ہر موج پریشاں ہو جائے
پھر چاہے آنکھ دریچے سے
ہر خواب گریزاں ہو جائے
پھر چاہے پھول کے چہرے کا
ہر درد نمایاں ہو جائے

اس جھیل کنارے پل دو پل وہ روپ نگر ایجاد تو ہو
دن رات کے اس آئینے سے وہ عکس کبھی آزاد تو ہو
ان جھیل سی گہری آنکھوں میں اِک شام کہیں آباد تو ہو

...دیا

روشنوں کے شہر میں 
آنکھیں
چندھیا گئی

کسی کے من میں
دیا جلاﺅ گے
تو برا مان جائیں گے

... وصل کی گھڑی

وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی
اک ترے وصل کی گھڑی ہو گی
دستکیں دے رہی ہے پلکوں پر
کوئی برسات کی جھڑی ہو گی
کیا خبر تھی کہ نوکِ خنجر بھی
پھول کی اک پنکھڑی ہو گی
زلف بل کھا رہی ہے ماتھے پر
چاندنی سے صبا لڑی ہو گی
اے عدم کے مسافرو ہشیار
راہ میں زندگی کھڑی ہو گی
کیوں گرہ گیسوؤں میں ڈالی ہے
جاں کسی پھول کی اڑی ہو گی
التجا کا ملال کیا کیجئے
ان کے در پر کہیں پڑی ہو گی
موت کہتے ہیں جس کو اے ساغر
زندگی کی کوئی کڑی ہو گی

...ہجر کے مسافر

لاکھ ضبط خواہش کے

بے شمار دعوے ہوں
اس کو بھول جانے کے
بے پناہ ارادے ہوں
اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا
فیصلہ سنانے کو
کتنے لفظ سوچے ہوں
دل کو اسکی آہٹ پر
بر ملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے
پھر وفا کے صحرا میں
اس کے نرم لہجے اور
سوگوار آنکھوں کی
خوشبوؤں کو چھونے کی
جستجو میں رہنے سے
روح تک پگھلنے سے
ننگے پاؤں چلنے سے
کون روک سکتا ہے
چاہے دل کے ہاتھوں میں
آنسوؤں کی بارش میں
ہجر کے مسافر کے
پاؤں تک بھی چھو آؤ
جس کو لوٹ جانا ہو
اس کو دور جانے سے
راستہ بدلنے سے
دور جا نکلنے سے
کون روک سکتا ہے۔