Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Friday, May 20, 2011

شام کے اُس پار

وہاں چلیں جہاں شام ڈوب جاتی ہے
جہاں خواب جاگتے رہتے ہیں
جہاں حسرتیں بے اماں نہیں ہوتی
وہ جہاں نالوں کی فغاں بے زباں نہیں ہوتی
جہاں ہر اک زاویہ نئی سوچ کا مظہر ہے
جہاں خوشیوں کا دوام اب بھی قائم ہے
جہاں درد کا رشتہ اب بھی دائم ہے
جہاں پھول بھی ، مرغزار بھی جلتے ہیں
جہاں منزل انہیں ملتی ہے
جو بس اک گام چلتے ہیں
جہاں سدا الفتوں کا سویرا رہتا ہے
جہاں کا محبتوں کا نشہ چڑھا رہتا ہے
اے صبح بے نور
تو بھی جا کے دیکھ اس دیس تک
جہاں فقط ظلمتوں کو زوال ہے
جہاں خواب صدیوں کی پوشاک اوڑھے
سدا ہنستے رہتے ہیں
جہاں فقط دکھوں کو جبر کو ظلم کو زوال ہے

Thursday, May 19, 2011

... نہیں ملتیں


ہر کسی کو دنیا میں شہرتیں نہیں ملتیں
زندگی کے لمحوں کی قیمتیں نہیں ملتیں

فتح کی خواہش میں اعمال بھی تو لازم ہیں
صرف کچھ ارادوں سے منزلیں نہیں ملتیں

فیصلے یہ چاہت کے آسماں پہ ہوتے ہیں
دو دلوں کے ملنے سے قسمتیں نہیں ملتیں

دین اور دنیا کو ساتھ رکھنا پڑتا ہے
مسجدوں میں رہنے سے جنتیں نہیں ملتیں

مان لو زمانے میں اور بھی ہیں مجھ جیسے
حسب ِآرزو جنہیں چاہتیں نہیں ملتیں

...رسم


ہے زمانے بھر کا اصول جو ، وہ اصول تُم نے نبھا دیا
یہ رسم ٹھہرے گی معتبر ، مجھے بھول جانے کا شُکریہ

...تمھیں کیا

تمھیں کیا۔۔۔
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے تو اِس کی ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمھیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا۔۔۔ چہروں کے میلے میں
محبت کی شفق برسی تمھارے خال و خد پر
آئنے چمکے تمھاری دید سے
خوشبو تمھارے پیرہن کی ہر شکن سے
اِذن لے کر ہر طرف وحشت لُٹاتی تھی
تمھارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں۔۔۔
سبھی آنکھیں تمھارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں!
تمھیں کیا۔۔۔
تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں اُنڈیلے ذائقے اپنے
تمھیں کیا۔۔۔
تم نے کب سوچا؟
کہ چیزوں سے اٹی دنیا میں، تنہا سانس لیتی
ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر
کتنی مشقت سےگریبانِ سحر کے چاک سیتے ہیں؟
تمھیں کیا۔۔۔!
تم نے کب سوچا؟
کہ تنہائی کے جنگل میں۔۔۔
سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے؟
تمھیں کیا؟
تم نے کب سوچا۔۔۔۔
کہ چیزوں سے اٹی دُنیا میں
کس کا دل اکیلا ہے؟

... دل دکھتا ہے


جب زخم دہکنے والے ہوں
اور خوشبو کے پیغام ملیں
اور اپنے دریدہ دامن کے
جب چاک سلیں
دل دکھتا ہے

جب آنکھیں خود سے خواب بنیں
خوابوں میں بسرے چہروں کی
جب بھیڑ لگے
اس بھیڑ میں جب تم کھو جائو
دل دکھتا ہے

جب حبس بڑھے تنہائی کا
جب خواب جلیں، جب آنکھ بجھے
تم یاد آئو
دل دکھتا ہے

...متاع و مال شکستگا ں


ابھی آگ پوری جلی نہیں ، ابھی شعلے اونچے اٹھے نہیں
کہاں کا ہوں میں غزل سرا، مرے خال و خد بھی بنے نہیں

ابھی سینہ زور نہیں ہوا میرے دل کے غم کا معاملہ
کوئی گہرا درد نہیں ملا ، ابھی ایسے چرکے لگے نہیں

اس سیل نور کی نسبتوں سے تو میرے دریچہ دل میں آ
میرے طاقچوں میں ہے روشنی، ابھی یہ چراغ بجھے نہیں

نہ میرے خیال کی انجمن ، نہ میرے مزاج کی شاعری
سو قیام کرتا میں کس جگہ ، میرے لوگ مجھ کو ملے نہیں

میری شہرتوں کے جو داغ ہیں ، میری محنتوں کے یہ باغ ہیں
یہ متاع و مال شکستگا ں ہیں ، زکواۃ میں تو ملے نہیں

ابھی بیچ میں ہے یہ ماجرا ، سو رہے گا جاری یہ سلسلہ
کہ بساط حرف و خیال پر ، ابھی پورے مہرے سجے نہیں

اعتبار ساجد

... دهیان

سنو بلا کی افراتفری هے هماری زات میں لیکن
بے دهیانی میں بهی تمهارا دهیان رهتا هے

... مقدّر کا ستارا


غم نصیبوں کو کسی نے تو پکارا ہوگا
اس بھری بزم میں کوئی تو ہمارا ہوگا

آج کس یاد سے چمکی تری چشمِ پرُ نم
جانے یہ کس کے مقدّر کا ستارا ہو گا

جانے اب حُسن لٹائے گا کہاں دولتِ درد
جانے اب کس کو غمِ عشق کا یارا ہوگا

تیرے چھُپنے سے چھپیں گی نہ ہماری یادیں
تو جہاں ہو گا وہیں ذکر ہمارا ہو گا

یوں جدائی تو گوارا تھی ، یہ معلوم نہ تھا
تجھ سے یوں مل کے بچھڑنا بھی گوارا ہوگا

چھوڑ کر آئے تھے جب شہرِ تمنّا ہم لوگ
مدتوں راہگذاروں نے پکارا ہو گا

مسکراتا ہے تو اک آہ نکل جاتی ہے
یہ تبسّم بھی کوئی درد کا مارا ہو گا

...غمِ دو جہاں


تو چلے تو اِک دھنک سی تیری آہٹوں سے پھُوٹے
نہ ہو جس میں روپ تیرا وہ تمام رنگ جھُوٹے

تیری دھوپ میں گھٹائیں تیری چھاؤں میں سویرا
تجھے راستے پکاریں ہو گزر جدھر سے تیرا
چلے جب ہوا کا جھونکا تیری خوشبوؤں کو لُوٹے

تو ہر ایک رُت کے پیچھے تو ہر ایک آئینے میں
میرے گرد کھینچ دی ہیں تیرے پیار نے لکیریں
کبھی راستہ نہ بھولوں کبھی رابطہ نہ ٹوٹے

میری آنکھ میں اجالا تجھے دیکھ دیکھ کر ہو
میرا ایک ایک لمحہ تیری یاد میں بسر ہو
میرے سانس تجھ کو پا کر غمِ دو جہاں سے چھُوٹے

...مجھے تم یاد آؤ گے


نا میں لفظوں کا قیدی تھا
نا جملوں کی کوئی زنجیر میرے فیصلوں کو روک پائی تھی
مگر جانے ہوا کیسے
تمہارے ایک جملے نے
مجھے لفظوں کا قیدی کر دیا
بلکل بدل ڈالا
بچھڑتے وقت دھیرے سے تمہارا یہ مجھے کہنا
"مجھے تم یاد آؤ گے