Urdu & Punjabi Poetry

Pages

  • Home
  • Designed Punjabi Poetry
  • Designed Urdu Poetry
Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Tuesday, May 31, 2011

,...تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں


تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں
تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں
میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فسوں
میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر
کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں
تجھ کو بھولیں کہ تجھے یاد کریں
اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل
اب تو باقی ہی نہیں کچھ
جسے برباد کریں
تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی
پھر سرزم جو آئے تو تہی داماں آئے
چن لیا دردٍ مسیحائی
تیری دلدار نگاہی کے عوض
ہم نے جی ہار دیئے، لُٹ بھی گئے
کیسےممکن ہے بھلا
خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں
تجھ کو بھولیں کہ تجھے یاد کریں
اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر
ہم نے کانٹے بھی چنے روح کے آزار بھی سہے
ہم سے جذبوں*کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے
بس تیری جیت کی خواہش نے کیاہم کونڈھال
اب اسی سوچ میں گذریں گے مہ و سال مرے
تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں
Posted by Unknown at 3:03 AM
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

.... بھری بہار میں


بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
نہ اپنے زخم ہی مہکے ، نہ دل کے چاک سلے

کہاں تلک کوئی ڈھونڈے مسافروں کا سراغ
بچھڑنے والوں کا کیا ہے ، ملے ملے نہ ملے

عجیب قحط کا موسم تھا اب کے بستی میں
کیے ہیں بانجھ زمینوں سے بارشوں نے گِلے

یہ حادثہ سرِ ساحل رُلا گیا سب کو
بھنور میں ڈوبنے والوں کے ہاتھ بھی نہ ملے

سناں کی نوک، کبھی شاخِ دار پہ محسن
سخنوروں کو ملے ہیں مشقتوں کے صلے

محسن نقوی
    Posted by Unknown at 3:00 AM
    Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

    ~~ آخری گفتگو ~~


    یہ تصویریں ہیں
    خط ہیں
    اور کچھ پُرزے ہیں
    جن پر تُم مجھے پیغام لکھتی تھیں
    انہیں محفوظ کر لو
    ہاں مگر افسوس
    ٹیلی فون پر جو گفتگو
    تم مجھ سے کرتی تھیں
    اُنہیں میں تم کو واپس کر نہیں سکتا
    جو میری دسترس میں تھا
    تمہارے سامنے ہے سب
    جو باقی ہے
    صدا ہے اب ۔۔۔۔

    Posted by Unknown at 2:58 AM
    Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

    میں کیسے اس کو یقیں دلاؤں


    عجب کشمکش کے راستے ہیں
    بڑی کٹھن یہ مسافتیں ہیں
    میں جس کی راہوں میں بِچھ گئی ہوں
    اسی کو مجھ سے شکائتیں ہیں
    شکائتیں سب بجا ہیں، لیکن
    میں کیسے اس کو یقیں دلاؤں
    اُسے بُھلاؤں تو
    مر نہ جاؤں
    میں اس خموشی کے امتحاں میں
    کہاں کہاں سے گزر گئی ہوں
    اُسے خبر بھی نہیں ہے شاید
    میں دھیرے دھیرے
    بکھر گئی ہوں
      Posted by Unknown at 2:55 AM
      Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

      چاند سے روز پوچھتا تھا میں


      چاند سے روز پوچھتا تھا میں
      کس لئے اس قدر اُداس ہو تم؟
      کس کی چاہت میں سال بھر پھیرے
      سال بھر گھٹتے بڑھتے رہتے ہو تم
      اُجڑے اُجڑے سے بکھرے بکھرے ہو
      کیا ستارے تمہیں جگاتے ہیں؟
      میرے ایسے کئی سوالوں پر
      چاند نظریں چرا کے چھپ جاتا
      اُوٹ میں بادلوں کی چھپ جاتا
      آج مجھ پر جدائی آئی ہے
      چاند سرگوشیوں میں پوچھتا ہے
      ساتھی، اِتنے اُداس کیوں کر ہو؟
      کس لئے تیری پلکیں بھیگی ہیں؟
      کس لئے نیند تم سے روٹھی ہے؟
      چاند سے ایسی گفتگو سن کر
      آج میں نے نظر چرائی ہے
      اپنے ہاتھوں میں منہ چھپایا ہے
      اور رویا ہوں سسکیاں لے کر

      Posted by Unknown at 2:53 AM
      Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

      ہم خود فریبی میں زندگی بِتاتے ہیں


      ہم تمام زندگی
      خوشیوں کی تلاش میں
      بے حساب رنج و غم
      اپنے دل پہ سہتے ہیں
      جان تک گنواتے ہیں
      نم آنکھوں سے ہنستے ہیں
      اور خود سے کہتے ہیں
      رنج عارضی ہیں یہ
      خود فریبی ہے
      سُن
      اصل میں یوں ہوتا ہے
      مختصر سی مدت میں
      خوشیاں بیت جاتی ہیں
      ہم خود فریبی میں
      زندگی بِتاتے ہیں
      ایک چراغ بجھتا ہے
      دوسرا جلاتے ہیں
      دشت و آس و یاس میں
      ننگے پاؤں چلتے ہیں
      خوشیوں کی تلاش میں
      غم سمیٹ لیتے ہیں
        Posted by Unknown at 2:50 AM
        Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

        ...ہاتھ بھر کی دوری پر


        اک نظر کی فرصت میں
        سطح دل پہ کھل اُٹھے
        لفظ بھی، معانی بھی
        خامشی کی جھلمل میں
        آگ بھی تھی، پانی بھی
        دل نے ڈھرکنوں سے بھی
        جو کہی نہیں تھی اب تک
        ان کہی کہانی بھی
        ان کہی کہانی میں
        آنکھ بھر تمنا تھی
        ہاتھ بھر کی دوری پر
        لمس بھر کی قربت تھی
        لمحہ بھر کا سپنا تھا
        Posted by Unknown at 2:45 AM
        Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

        Sunday, May 22, 2011

        کتاب_دل میں جو نفرت کا باب رکھتا تھا


        کتاب_دل میں جو نفرت کا باب رکھتا تھا
        وہ چاہتوں کا مکمل حساب رکھتا تھا
        فریب دیتا رہا دوستی کے پردوں میں
        وہ شخص چہرے پہ کتنا نقاب رکھتا تھا
        آج اس کے ہاتھوں میں پتھر دکھائی دیتا ہے
        جو اپنے ہاتھ میں ہر دم گلاب رکھتا تھا
        وہ شخص جو کہ بھٹکتا دکھائی دیتا ہے
        راہ_وفا میں قدم کامیاب رکھتا تھا
        کہاں تلاش کروں میں اس کو آج فراز
        جو اپنی بات میں اپنا جواب رکھتا تھا
        Posted by Unknown at 9:56 PM
        Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

        ...معیار


        خود کو تیرے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
        جو چھوڑ گیا، اُس کو پلٹ کر نہیں دیکھا

        میری طرح، تُو نے شبِ ہجراں نہیں کاٹی
        میری طرح، اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا

        تُو دشنہِ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہے
        تُو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا

        تھے کوچہِ جاناں سے پرے بھی کئی منظر
        دل نے کبھی اس راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا

        اب یاد نہیں مجھ کو فراز اپنا بھی پیکر
        جس روز سےبکھرا ہوں سِمٹ کر نہیں دیکھا

        احمد فراز

        Posted by Unknown at 9:49 PM
        Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

        Saturday, May 21, 2011

        ... دیر کتنی لگتی ہے


        آگ ہو تو
        جلنے
        میں دیر کتنی لگتی ہے
        برف کے پگھلنے میں‌ دیر
        کتنی لگتی ہے

        چاہے کوئی رک جائے، چاہے
        کوئی رہ جائے
        قافلوں کو چلنے میں دیر
        کتنی لگتی ہے

        چاہے کوئی جیسا بھی
        ہمسفر ہو صدیوں سے
        راستہ بدلنے میں دیر کتنی
        لگتی ہے

        یہ تو وقت کے بس میں ہے
        کہ کتنی مہلت دے
        ورنہ بخت ڈھلنے میں دیر
        کتنی لگتی ہے

        موم کا بدن لے کر دھوپ میں
        نکل آنا
        اور پھر پگھلنے میں‌ دیر
        کتنی لگتی ہے

        سوچ کی زمینوں میں راستے
        جدا ہوں تو
        دور جا نکلنے میں دیر کتنی
        لگتی ہے
        Posted by Unknown at 7:38 PM
        Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest
        Newer Posts Older Posts Home
        Subscribe to: Posts (Atom)

        Search This Blog

        Contributors

        • Fehmida Chaudhary
        • Fehmida Chaudhary
        • Unknown

        Contact Form

        Name

        Email *

        Message *

        Total Pageviews

        My Other Blogs List

        • Bila Unwan.....
          Adalat...
          7 years ago
        • Ashaar.Com
          Apni lehad pe jalna tha...
          8 years ago
        • Ghazals.Com
          Kon tha....?
          8 years ago
        • Nazmain.Com
          Abhi likhain tou kia likhain.....??
          8 years ago
        • ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ Islam Online Channel ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ لا إله إلا الله محمد رسول الله ♥ ♥ ♥ ♥ ♥
          Behen ki fazilat...
          12 years ago
        • Khobsurat batain
          اپنا احتساب بھی عجب شےہے۔۔۔
          13 years ago
        • Femz Creations
          15 years ago
        • Cure through 99 Names of ALLAH

        Blog Archive

        • ▼  2016 (4)
          • ▼  April (4)
            • عادتیں
            • کرید
            • خواب کی دستک
            • معنی کا عذاب
        • ►  2015 (1)
          • ►  December (1)
        • ►  2013 (11)
          • ►  August (8)
          • ►  March (3)
        • ►  2012 (150)
          • ►  November (13)
          • ►  July (9)
          • ►  June (19)
          • ►  May (39)
          • ►  April (11)
          • ►  March (34)
          • ►  February (8)
          • ►  January (17)
        • ►  2011 (890)
          • ►  December (147)
          • ►  November (162)
          • ►  October (82)
          • ►  September (6)
          • ►  August (89)
          • ►  July (91)
          • ►  June (29)
          • ►  May (33)
          • ►  April (89)
          • ►  March (59)
          • ►  February (39)
          • ►  January (64)
        • ►  2010 (158)
          • ►  December (57)
          • ►  November (30)
          • ►  October (65)
          • ►  September (6)
        CopyRight © Fehmida Chaudhary .... Awesome Inc. theme. Theme images by chuwy. Powered by Blogger.