Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Tuesday, October 26, 2010

...کتنا بڑا وہ شخص یہ احسان کر گیا

کتنا بڑا وہ شخص یہ احسان کر گیا
مجھ پہ ہی میری ذات کا عرفان کر گیا

اس کے ہی دم سے رونقیں ہر سمت گھر میں تھیں
وہ کیا گیا جہاں کو ہی ویران کر گیا

میرے ہر ایک قطرہ خوں میں ہے اس کا پیار
خود تھا بہار مجھ کو گلستان کر گیا

چادر وفا کی اوڑھ لی تربت میں ہو کے خاک
دل تھا صحیفہ ، جسم کو جزدان کر گیا

اس شہر بے اماں میں اسی کی تھی اک اماں
جو دھوپ میں بھی جینے کا سامان کر گیا

,,,,وقت چاہیے کچھ تو


دل کو پھر بنانے میں وقت چاہیے کچھ تو
کرچیاں اٹھانے میں وقت چاہیے کچھ تو

ساتھ وہ نہیں پل کا عمر بھر کا لگتا تھا
اس کو اب بھلانے میں وقت چاہیے کچھ تو

ہو سکے تو ہم سے بھی سن سکو تو سن لو تم
بات پھر سنانے میں وقت چاہیے کچھ تو

کیا نگہ کی سیرابی ، کیا نظر کی شادابی
آنکھ کو اٹھانے میں وقت چاہیے کچھ تو

فاصلے بڑھانے میں دیر کتنی لگتی ہے
اور قریب آنے میں وقت چاہیے کچھ تو

اس قدر نہیں آساں ، جتنا ہم نے سمجھا تھا
حال دل بتانے میں وقت چاہیے کچھ تو

سب خطائیں ان کی ہم بھول بھی تو سکتے ہیں
پر گلے لگانے میں وقت چاہیے کچھ تو

دیر آشنا تم ہو ، اس قدر بھی جلدی کیا
ہم کو پھر مٹانے میں وقت چاہیے کچھ تو

دردِ دل بڑھانے کو ایک لمحہ کافی ہے
دردِ دل گھٹانے میں وقت چاہیے کچھ تو

تنکا تنکا چُن چُن کر ہم نے جو بنایا تھا
آشیاں جلانے میں وقت چاہیے کچھ تو

زخم جو پرانے ہیں ، ان کو ہم رفو کر لیں
پھر فریب کھانے میں وقت چاہیے کچھ تو

آنکھ کا سمندر سے کچھ عجیب رشتہ ہے
سیلِ غم بہانے میں وقت چاہیے کچھ تو

خاک میں ملانے کا گر ارادہ رکھتے ہو
آسماں گرانے میں وقت چاہیے کچھ تو

نیکیاں ہی کرنے میں عمر جو لگی تم کو
اس کو پھر جتانے میں وقت چاہیے کچھ تو

پھر پلٹ کے جانے کی ہم نہ رکھیں خواہش بھی
کشتیاں جلانے میں وقت چاہیے کچھ تو

جب وجود کا رستہ حد پہ موت کی پہنچے
پار اس کے جانے میں وقت چاہیے کچھ تو

اب لہو کے چھینٹوں کا اس قدر ہے چرچا کیوں
زخم کو چُھپانے میں وقت چاہیے کچھ تو

Thursday, October 21, 2010

.......رشتے

گُل و سمن سے بھی رشتے قرار جاں کے ہیں

بہت فریب یہاں عمر رائیگاں کے ہیں

نہیں ہے کوئی بھی منزل اگر مری منزل

تو پھر یہ پاوں تلے راستے کہاں کے ہیں

قمر سے دیکھ طلوع زمیں کا نظارہ

نگاہ پر تو بہت قرض آسماں کے ہیں

نظر نظر میں یہاں پھر رہی ہیں تعبیریں

کچھ اور خواب مگر چشم پاسباں کے ہیں

یہ کس نے پھر مری تحریر سے خطاب کیا

کہ حرف حرف میں انداز رازداں کے ہیں

اُداس جس نے رکھا ہے تمہاری آنکھوں کو

اسیر ہم بھی اسی خواب رائیگاں کے ہیں

سحر ، نصیب وفا قتل گاہ شب ہی سہی

مرے لہو میں ستارے تو کہکشاں کے ہیں

,,,,,,سر راہ

سر راہ

لمحہ بھر کے لیے چلتے چلتے قدم رُک گئے

خون کے تازہ تازہ نشان چھوڑ کر

کھانستی زندگی دونوں ہاتوں سے سینے کو تھامے ہوئے

جانے کس موڑ پر جا کے گُم ہو گئی

راستے کی سیاہی سے لپٹا رہا

اک اثاثہ جسے اپنے وارث کی کوئی ضرورت نہ تھی

ایک ٹوٹا ہوا آئینہ

جس میں آئینہ گر کی بھی صورت نہ تھی

میری آنکھوں نے اس خون تازہ کا نوحہ پڑھا

میری سانسوں کا ڈورا اُلجھنے لگا

اور پھر میرا انسان کچھ دیر میں

اپنے ہی جیسے انسان کے خون سے ڈر گیا

ایک نادیدہ مخلوق کے خوف سے مر گیا

......اے دیس

اے دیس سے آنے والے بتا

وہ شہر جو ہم سے چھُوٹا ہے، وہ شہر ہمارا کیسا ہے

سب دوست ہمیں پیارے ہیں مگر وہ جان سے پیارا کیسا ہے

جب بھی میخانے بند ہی تھے اور وا درِ زنداں رہتا تھا

اب مفتیٔ دیں کیا کہتا ہے، موسم کا اشارہ کیسا ہے

وہ پاس نہیں احساس تو ہے، اک یاد تو ہے اک آس تو ہے

دریائے جدائی میں دیکھو تنکے کا سہارا کیسا ہے

یہ شامِ ستم کٹتی ہی نہیں، یہ ظلمتِ شب گھٹتی ہی نہیں

میرے بدقسمت لوگوں کی، قسمت کا ستارہ کیسا ہے

اے دیس سے آنے والے مگر تم نے تو نہ اتنا بھی پوچھا

وہ کَوی جسے بن باس ملا، وہ درد کا مارا کیسا ہے

احمد فراز

....ترکِ تعلقات

ترکِ تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں

حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر
بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تو نہ میں

ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے

وا کر سکا مگر لبِ گویا نہ تو نہ میں

نوحے فصیلِ ضبط سے اونچے نہ ہو سکے

کھل کر دیارِ سنگ میں رویا نہ تو نہ میں

جب بھی نظر اٹھی تو فلک کی طرف اٹھی
برگشتہ آسمان سے گویا نہ تو نہ میں
(خالد احمد)

.....لوح و قلم

عاشق کیلیے رنج و الم رکھے ہیں

شاہوں کیلیے تاج و علم رکھے ہیں

میرے لیے کیا چیز ہے؟ میں نے پوچھا

آئی یہ صدا لوح و قلم رکھے ہیں

....... عکس

اپنے اپنے عکس میں

پھنسے ہوئے کھڑے ہیں سب

سوچتے ہیں کیا کریں

ہزیمتوں کے درمیاں

ندامتوں کا زخم ہے

شکست کا ملال ہے

پر شکستہ، جاں بلب

اپنی اپنی ذات کی طناب میں کسے ہوئے

اپنی اپنی قبر کے

عذاب میں پھنسے ہوئے

نہ کوئی جائے رفت ہے

کوئی جائے ماند ہے

کریں بھی ہم تو کیا کریں

اپنے اپنے عکس کے عذاب ناتمام ہیں


....رات دن کا قصـّہ


ایک پہچانا ہوا انجان شہر
رات کے کالے بدن پر برص کے اُجلے چراغ
آدمی کی کھال میں چیتے کی روح
جسم کے مرگھٹ پہ سانولی چتا جلتی ہوئی
نک چڑھی بیوی کی صورت

زندگی !

......خوشبو

بس گئی ہے میرے احساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو آئے