Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Wednesday, August 31, 2011

رات کا سمندر ہے


رات کا سمندر ہے
رات بھی محبت کی

بات کا اجالا ہے
بات بھی محبت کی

گھات کی ضرورت ہے
گھات بھی محبت کی

نرم گرم خاموشی
سہج سہج سرگوشی

چور چور دروازے
کون چھپ کے آیا ہے

آرزو نے جنگل میں
راستہ بنایا ہے

جھینپتے ہوئے آنگن
نے درخت سے مل کر

کچھ نہ کچھ چھپایا ہے
آسماں کی کھڑکی میں

سکھ بھری شرارت سے
چاند مسکرایا ہے

چاند مسکرایا ہے
چاندنی نہائی ہے

خوشبوؤں نے موسم میں
آگ سی لگائی ہے

عشق نے محبت کی
آنکھ چومنا چاہی

اور ہوا کے حلقے میں
شوخ سی نزاکت سے

شاخ کمسائی ہے
رات کا سمندر ہے

رات بھی محبت کی
بات کا اجالا ہے

رات بھی محبت کی
بات کے سویرے میں

زندگی کے گھیرے میں
روح ٹمٹمائی ہے

وصل جھلملایا ہے
دل نے بند سینے میں

حشر سا اٹھایا ہے
کون چھپ کے آیا ہے

یہ معجزہ


یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی
وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ
یہ سلسہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

نئی گرہ نئے ناخن نئے مزاج کے قرض
مگر پیچ بہت ابتدا کا لگتا ہے

اے محبت ! تیری قسمت


اے محبت !
تیری قسمت
کہ تجھے مفت ملے ہم سے دانا
جو کمالات کیا کرتے تھے
خشک مٹی کو امارات کیا کرتے تھے
اے محبت
یہ تیرا بخت
کہ بن مول ملے ہم سے انمول
جو ہیروں میں تُلا کرتے تھے
ہم سے منہ زور
جو بھونچال اُٹھا رکھتے تھے
اے محبت میری
ہم تیرے مجرم ٹھہرے ،
ہم جیسے جو لوگوں سے سوالات کیا کرتے تھے
ہم جو سو باتوں کی ایک بات کیا کرتے تھے
تیری تحویل میں آنے سے ذرا پہلے تک
ہم بھی اس شہر میں عزت سے رہا کرتے تھے
ہم بگڑتے تو کئی کام بنا کرتے تھے
اور
اب تیری سخاوت کے گھنےسائے میں
خلقتِ شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے
جتنے الزام تھے
مقسوم ہمارا ٹھہرے
اے محبت
ذرا انداز بدل لے اپنا
تجھہ کو آئندہ بھی عاشقوں کا خون پینا ہے
ہم تو مر جائیں گے ، تجھ کو مگر جینا ہے
اے محبت
تیری قسمت
کہ تجھے مفت ملے ہم سے انمول
ہم سے دانا۔۔۔۔۔
اے محبت

مجھے لکھنا اگر آتا


مجھے لکھنا اگر آتا
تو لکھتا تيري آنکھوں پر
تيري آنکھوں کي پلکوں‌پر
تيري آنکھوں کي شوخي پر
تيرے ہونٹوں‌کي جنبش پر
کہ جب تم بات کرتي ہو
تو گويا پھول جھڑتے ہيں‌
تري لہراتي زلفوں‌ پر
کہ جب تم اپنے بالوں‌ ميں‌
کوئي گجرا سجاتي ہو
فضائيں‌گنگناتي ہيں‌
ميں‌اپنے دل کے جذبوں کو
تمہارے نام کرتا ہوں
مجھے لکھنا اگر آتا
تو لکھتا تيري آنکھوں پر
مگر ميں‌کيا کروں ’’جانا‘‘
مجھے لکھنا نہيں‌ آتا

خراج ہے يہ محبتوں کا


خراج ہے يہ محبتوں کا، عداوتوں کا
عذاب لمحوں کي وحشتوں کا
لہو ميں نکھري حکائتوں کا
بند سے لپٹي شکائتوں کا
رگوں ميں اُتري، اُتر کے بکھري، بکھر کے پھيلي بغاوتوں کا
خراج ہے يہ محبتوں کا، عداوتوں کا
انہيں بھي ديکھو جو سر پہ مٹي کو اوڑھتي ہيں
جو اپني حُرمت کي کرچيوں کو جگر کے پوروں سے چُن رہي ہيں
جو خواب پلکوں سے بُن رہي ہيں
پھر ان کو خود ہي اُدھيڑتي ہيں
بچي کُھچي سي جو اپني سانسيں سميٹتي ہيں
سميٹ کر خود بکھيرتي ہيں
کوئي تو ان کا جہاں ميں ہوگا، مگر کہاں ہے؟
پنہ ميں لے لے جو ان کو اپني، وہ گھر کہاں ہے؟
خراج ہے يہ محبتوں کا، عداوتوں کا
فلک پہ اُگتا ہوا يہ سورج گواہي دے گا
ہوائيں روتي ہيں سُن کے ماؤں ‌کے بين ہر پل
جو کوکتي ہيں، جو ہُوکتي ہيں
سسک سسک کر جو جي رہي ہيں
جو اپنے بيٹوں کي رکھ کے لاشيں
زميں پہ ديوار چُن رہي‌ ہيں
خراج ہے يہ محبتوں کا، عداوتوں کا
مگر وہ پل دور اب نہيں ہے، ہميں يقيں ہے
جہاں ميں چاروں ہي اور کرنوں کا راج ہوگا
مٹے ہوؤن کے، لُٹے ہوؤں کے سروں پہ خوشيوں کا تاج ہوگا
نقاب اُترے کا ديکھ لينا
جو بھيڑ لگتے تھے، بھيڑيے ہيں
اور اُن کے ابرو کے اک اشارے پہ موت رقصاں تھي،
چاروں جانب
اور آستيوں ميں ان کے خنجر چُھپے ہوئے تھے
سمجھ لو يومِ حساب ان کا قريب ہے اب
نقاب اُترے گا ديکھ لينا

مرے ساتھي


مرے ساتھي
مري آنکھيں، مري سوچيں، مرا تن من
مرا سب کچھ سفر ميں ہے
اسي دن سے کہ جب ہم پر
جدائي کا سمے گزرا
سنو جاناں, سنو جاناں
تمہيں تو ياد ہي ہو گا
ميں ايسا چاہتا کب تھا مگر پھر بھي
تمہيں جب چھوڑ کر جانا پڑا مجھ کو
تمہارے گال پر ميں نے جو منظر آخري ديکھا
اذيت ناک منظر تھا
تمہيں بھي ياد ہو شايد
بچھڑتے وقت کے سورج کي اس دھيمي تمازت سے
ترے دل پر جمي جب برف پگھلي تھي
تو پھر جذبات کے دريا ميں اک سيلاب آيا تھا
کوئي گرداب آيا تھا
سنو جاناں
تو پھر ديکھا کہ اس سيلاب کي اک موج
تيري آنکھ کے ساحل سے ٹکرا کر
تري پلکوں کے رستے سے ترے رخسار پر آ کر
کوئي گمنام منزل ڈھونڈنے لمبے سفر ميں تھي
مگر ميري نظر ميں تھي
سنو جاناں! يقيں جانو
کہ اب بھي رات کو اکثر
ترے آنسو کي وہ لمبي مسافت
ياد آئے تو
مجھے بے چين رکھتي ہے
مجھے شب بھر جگاتي ہے
مجھے پاگل بناتي ہے

سنو لڑکي

سنو لڑکي!
جدا ہونے سے پہلے
سوچ لينا کہ يہ
جدائي عذاب بن جاتي ہے
رگوں ميں زہر بن کر دوڑتي ہے
ملنا بس ميں نہيں ہوتا
جدا ہوئے تو
ملنے کي آس باقي نہيں رہتي
زندگي پھر زندگي نہيں رہتي

چلو ايسا کرتے ہيں
بچھڑ جاتے ہيں
بچھڑتے ہوئے ايک اميد باقي رہتي ہے
ملنے کا امکان ہوتا ہے
کسي موڑ پہ
اچانک کہيں سامنے آنے پر
زندگي شادمان ہوتي ہے

چلو پھر ايسا ہي کرتے ہيں
جدائي کے سمے سے بچنے کے ليے
اک بار بچھڑ کے ديکھتے ہيں

Wednesday, August 24, 2011

میرے خواب میرے سپنے میرے تک ہیں

میرے خواب میرے سپنے میرے تک ہیں
میرے بعد انہیں یاد کرے گا کون
میری چاہت بن جائے گی افسانہ
میری محبت کو یاد کرے گا کون
میرے تک ہیں یہ تمام سندر نظارے
میرے بعد ان کو آباد کرے گا کون
میری کہانیاں بکھڑئیں گی راہوں پہ
میری خطاوٴں کو شمار کرے گا زمانہ
میری وفاوٴں کو یاد کرے گا کون
جو گزارے قے ہم نے زمانے مل کہ
اُن زمانوں کو یاد کرے گا کون
میرے آئیں میرے ساتھ ہو جائیں گی دفن
میرے اِشکوں کو یاد کرے گا کون
اک تم سے ہے زندہ یہ چاہت میری
تم ہی نہ ہو گے تو یاد کرے گا کون
آ کہ اس ساتھ کو دیا گار بنا لئیں
کل کیہ پتہ اِس یاد کو یاد کرے گا کون

اتنی چاہت ہے کوئی گلہ نہیں


اتنی چاہت ہے کوئی گلہ نہیں
اپنی چاہت سے کوئی گلا نہیں تھا
تو سامنے تھا مگر میرہ نہیں تھا
ایسے جدا ہو جائیں گے ہم دونوں
میں نے کبھی سوچا نہیں تھا
اب تو بے چین سا رہتا ہوں میں
جیسا ہوں اب کبھی ایسا نہیں تھا
تو خفا ہوا تو لٹ گیا جہاں میرہ
تجھے جیسے چاہا کسی کو چاہا نہیں تھا
سرشاد تھا دل تیرے آنے سے پہلے
ٹوٹ کہ کبھی ایسے بکھڑا نہیں تھا
ڈھرکن کسی کے نام پہ ڈھرکتی نہ تھی
دل پہ کسی کا پہرہ نہیں تھا
ٹوٹا تو ٹوٹ کر بکھڑ گیاوہ
آئینہ جس میں میرا چہرہ نہیں تھا
تیری جھکی نظروں کو دیکھا تو گماں ہوا
تو نے جیسے کبھی دیکھا نہیں تھا
اُسی اک شخص کو چاہا عمر بھر کے لئے
جو دل کے گھر میں کبھی ٹھہرا نہیں تھا

رات ساری جاگتے ہوئے گزری


رات ساری جاگتے ہوئے گزری
شب تاریخک میں شمع جلاتے ہوئے گزری
اپنی ناکامیوں پہ افسوس کرتے ہوئے
اکھیوں سے اشک بہاتے ہوئے گزری
غموں سے بھر کہ اس ٹوٹے ہوئے دل کو
دکھوں سے اپنے بہلاتے ہوئے گزری
جس سے منسوب تھا میرے جیون کا ہر پل
اُسی اک بے وفا کو بھلاتے ہوئے گزری
ہر لمحہ قیاتمت کی مانند ٹھہرا
ہر گھڑی من کو تڑپاتے ہوئے گزری
وہ بھول گیا تو بھی بھول جا اُس کو
یہی اک بات دل کو سمجھاتے ہوئے گزری
بھول گیا تھا میں یاروں کب کا جیسے کل
ہوا بھی اُسی گیت کو گہنگناتے ہوئے گزری
اندھیروں نے بھی اپنی داستان سنائی مجھ کو
روشنی بھی اپنی کہانی سناتے ہوئے گزری
نفرت اور محبت کی کشمکش میں یہ زندگی
کچھ اُوتے ہوئے گزری کچھ مسکراتے ہوئے گزری