Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Tuesday, November 2, 2010

....آگ


شعلے بھڑک رہے تھے
آنسو چھلک رہے تھے
کسی نے گزرتے ہوئے پوچھا
کتاب جلا رہے ہو ؟
تڑپ کر وہ بولا نہیں ،

“خواب جلا رہا ہوں”

....اڑان

تاریکیاں الجھتی ہیں وہم و گمان سے

سورج اتارنا ہے مجھے آسمان سے

قسمت نے پھر سے پاؤں میں رستے بِچھا دیے

میں چُور چُور تھا ابھی پِچھلی تھکان سے

خوشبو کو اپنی سانس کی ڈوری میں باندھ کر

ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں تیرے مکان سے

گم سم کھڑا ہوں تیرے تصور کی دھوپ میں

جیسے گزر رہا ہو کوئی اپنی جان سے

عرفان بال و پر میرے کُھلنے کی دیر تھی

ڈرنے لگے ہیں آسماں، میری اڑان سے

...کہاں آتے ہیں

تُو بتا اے دلِ بے تاب کہاں آتے ہیں

ہم کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں

میں تو یک مُشت اُسے سونپ دوں سب کُچھ لیکن

ایک مٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں

مدتوں بعد تُجھے دیکھ کے دل بھر آیا

ورنہ صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں

ہم کس طرح تیرے در پہ ٹھکانہ کر لیں

ہم فقیروں کو یہ آداب کہاں آتے ہیں

سر بسر جن میں فقط تیری جھلک ملتی ہے

اب میسر ہمیں وہ خواب کہاں آتے ہیں

... کبھی کبھی


ملتا ہے اپنے آپ سے انساں کبھی کبھی

ہوتا ہے اس کے درد کا درماں کبھی کبھی

مشکل پڑے تو ہنس کے گلے سے لگائیے

مشکل کو کر کے دیکھئے حیراں کبھی کبھی

ان کی جسارتوں کا برا نہ منائیے

چُومیں ہیں اشک آپ کے مژگاں کبھی کبھی

کس درجہ معتبر ہے خمارِ وصالِ یار

لیتی ہے امتحاں شبِ ہجراں کبھی کبھی

فرقت ہے جان لیوا تو قربت ہے جاں تراش

ہجر و وصال ہوتے ہیں یکساں کبھی کبھی

شکوے گِلے اٹھا کہ کہاں تک چلے کوئی

کرتا ہوں خود کو بے سرو ساماں کبھی کبھی

خاورکو میزبانی کی عادت نہیں گئی

بنتا ہے اپنا آپ ہی مہماں کبھی کبھی

...اچھے لگتے ہیں

تم خود سوچو آدھی رات کو ٹھنڈے چاند کی چھائوں میں
تنہا راہوں پر ہم دونوں کتنے اچھے لگتے ہیں

آخر آخر سچے قول بھی چُھبتے ہیں دل والوں کو
پہلے پہلے پیار کے جُھوٹے وعدے اچھے لگتے ہیں

...میں بھول جاؤں تمہیں

میں بھول جاؤں تمہیں

اب یہی مناسب ہے

مگر بھُلانا چاہوں تو کس طرح بھُولوں

کہ تم تو پھر بھی حقیقت ہو

کوئی خواب نہیں

یہاں تو دل کا یہ عالم ہے

کیا کہوں ۔۔۔۔ کمبخت

بھلا سکا نہ یہ وہ سلسلہ جو تھا ہی نہیں

وہ ایک خیال جو آواز تک گیا ہی نہیں

وہ ایک بات جو میں کہہ نہیں سکا تم سے

وہ ایک ربط جو ہم میں کبھی رہا ہی نہیں

مجھے ہے یاد وہ سب جو کبھی ہوا ہی نہیں

اگر یہ حال ہے دل کا تو کوئی سمجھائے

تمہیں ُبھلانا بھی چاہوں تو کس طرح ُبھولوں

کہ تم تو پھر بھی حقیقت ہو

کوئی خواب نہیں ۔۔۔۔

..بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے


بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے
تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے
وہ خوشياں بھي جانے کيسي خوشياں تھيں
تتلي کے پَر نُوچ کے اُچھلا کرتے تھے
مار کے پاؤں ہم بارش کے پاني ميں
اپني ناؤ آپ ڈبويا کرتے تھے

چھوٹے تھے
تو مِکرو فريب بھي چھوٹے تھے
دانہ ڈال کے چڑيا پکڑا کرتے تھے
اب تو اِک آنسو بھي رُسوا کر جائے
بچپن ميں جي بھر کے رُويا کرتے تھے
خُوشبو کے اُڑتے ہي کيوں مرجھايا پھول
کتنے بھولے پن سے پوچھا کرتے تھے
کھيل کود کے دن بھر اپني ٹولي ميں
رات کو ماں کي گُود ميں سويا کرتے تھے

..بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے


بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے
تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے
وہ خوشياں بھي جانے کيسي خوشياں تھيں
تتلي کے پَر نُوچ کے اُچھلا کرتے تھے
مار کے پاؤں ہم بارش کے پاني ميں
اپني ناؤ آپ ڈبويا کرتے تھے

چھوٹے تھے
تو مِکرو فريب بھي چھوٹے تھے
دانہ ڈال کے چڑيا پکڑا کرتے تھے
اب تو اِک آنسو بھي رُسوا کر جائے
بچپن ميں جي بھر کے رُويا کرتے تھے
خُوشبو کے اُڑتے ہي کيوں مرجھايا پھول
کتنے بھولے پن سے پوچھا کرتے تھے
کھيل کود کے دن بھر اپني ٹولي ميں
رات کو ماں کي گُود ميں سويا کرتے تھے

...شرط

میرا جسم آئینہ خانہ ٹھہرے
میری جانب کوئی دیکھے تو سہی

اُس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں محسن
شرط اتنی ہے وہ بولے تو سہی

.....کوئی تو ہوتا

کوئی تو ہوتا

میں جسکے

دل کی کتاب بناتا

میں جسکی

چاہت کا خواب بناتا

میں ہجر کے

موسم کی لمبی

راتوں میں

یاد بن کر

عذاب بناتا

کوئی تو ہوتا

جو میری

خواہشوں میں

اٹھ کے راتوں کو

خوب روتا

دکھوں کی

چادر لپیٹ کر

ہجوم دنیا

سے دور ہوتا

میں روٹھ جاتا

مناتا مجھ کو

کہ چاہے میرا

قصور ہوتا

کوئی تو ہوتا

کوئی تو ہوتا

میں جسکا تنہا

حبیب ہوتا

یہ سلسلہ بھی

عجیب ہوتا

کوئی تو ہوتا

کوئی تو ہوتا