Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Friday, November 12, 2010

بچھڑنے سے ذرا پہلے


بچھڑنے سے ذرا پہلے
اگر وہ ازن گویائی مجھے دیتی
مجھے اس کو بتانا تھا
کہ میں اس کی ہتھیلی پر
ادھورے خواب رکھ کر بھول آیا ہوں
میں اس کی راہگزاروں میں
اسے آنکھوں میں بھر لینے کی حسرت بھول آیا ہوں
میں اسے بے شکن بستر
کے تکیے تلے بے فکر نیندیں بھول آيا ہوں
اگر وہ بولنے کا اذن دیتی تو
مجھے اس کو بتانا تھا
کہ میں اس کے لیے الفاظ کی مالا پروتا تھا
مگراب بے ہنر ہونٹوں کو گویائی نہیں ملتی
مجھے اس کو بتانا تھا
میری آنکھیں اگر اس کو نہ دیکھیں تو
بہت بے نور رہتی ہیں
کوئی منظر بھی طغیانی کے آگے رک نہیں پاتا
مجھے اس کو بتانا تھا
کہ اس کامطلب ہی میری زندگانی ہے
بنا اس کے میری ہر سانس
میری رائيگانی ہے

کیا تم بھی ،،،،،؟؟


کیا تم بھی ،،،،،؟؟

شام کی دہلیز پہ آس کا دیپ جلاتے ھو

اور کسی آوارے پتے کی آہٹ پر

دروازے کی طرف ھاگے جاتے ھو

کیا تم بھی ،،،،،؟؟

درد چپانے کی کوشش کرتے کرتے

اکثر تھک سے جاتے ھو

اور بلاوجہ مسکراتے ھو

کیا تم بھی ،،،،،؟؟

نیند سے پہلے پلکوں پر ڈھیروں خواب سجاتے ھو

یا پھر بستر پر لیٹ کر

روتے روتے سوجاتے ھو

کیا تم بھی ،،،،،؟؟

......بچھڑنا


سنو۔۔

تم تو عزم والے ہو
بلا کا ضبط رکھتے ہو

تمہیں کچھ بھی ہیں ہوگا

مگر دیکھو۔۔۔۔۔

جسے تم نے چھوڑ دیا ہے
اسے تو ٹھیک سے شاید

بچھڑنا بھی نہیں آتا۔۔۔

”تو"

جسے عکس عکس گنوادیا
کبھی رو برو تھی مرے لیئے

جسے نقش نقش بجھا دیا
کبھی چار سو تھی مرے لیئے

جو حد ہوا سے بھی دور ہے
کبھی کو بہ کو تھی مرے لیئے

جو تپش پے موج سراب کی
کبھی آبجو تھی مرے لیئے

جسے ”آپ" لکھتا ہوں خط میں اب
کبھی صرف ”تو" تھی مرے لیئے

میری گڑیا لادے


کوئی مجھ کو میرا بھرپور سراپا لادے
میرا بازو، میری آنکھیں، میرا چہرا لادے

ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرے
اس سے بہتر مجھ کو میرا صحرا لادے

کچھ نہیں چاہئے تجھ سے اے میری عمرٍ رواں
میرا بچپن، میرے جگنو، میری گڑیا لادے

جس کی آنکھیں مجھے اندر سے بھی پڑھ سکتی ہوں
کوئی چہرا تو میرے شہر میں ایسا لادے

مجھے تم سے محبت ہے

~*~*~*
مرے ساتھی
مری یہ روح میرے جسم سے پرواز کر جائے
تو لوٹ آنا
مری بے خواب راتوں کے عذابوں پر
سسکتے شہر میں تم بھی
ذرا سی دیر کو رکنا
مرے بے نور ہونٹوں کی دعاؤں پر
تم اپنی سرد پیشانی کا پتھر رکھ کے رو دینا
بس اتنی بات کہہ دینا
مجھے تم سے محبت ہے

"لمحے روٹھ بھی جاتے ہیں"


بوجھل بوجھل،سندر سندر، گہری گہری آنکھوں میں
رات کی چنچل سکھیوں میں
اپنی ریشمی پلکوں سے
کوئی خواب کبھی مت بننا
سپنے ٹوٹ بھی جاتے ہیں


جیوں ایک سفر ہے ایسا،جس کی منزل تنہائی ہے
جو بھی آس لگائے اس سے،پگلا ہے سودائی ہے
کسی کو بھی اپنا مت کہنا
ساتھی چھوٹ بھی جاتے ہیں


مٹھی میں جو لمحے ہیں
سارے تتلیوں جیسے ہیں
رنگوں کی صورت میں آخر ہاتھوں پر رہ جائیں گے
جانے والے ہر اک پل کو پلکوں بیچ چھپالو تم
ورنہ ایسا بھی ہوتا ہے

لمحے روٹھ بھی جاتے ہیں

Tuesday, November 2, 2010

...ہم نازک نازک دل والے

کبھی ہستے ہیں کبھی روتے ہیں

کبھی دل میں خواب پیروتے ہیں

کبھی محفل محفل پھرتے ہیں

اور ذات میں تنہا ہوتے ہیں

کبھی چھپ کے موحار سجاتے پیں

کبھی گیت لبوں پہ ہوتے ہیں

کبھی سب کا دل بہلاتے ہیں

کبھی ذات میں تنہا ہوتے ہیں

کبھی شب بھر جاگتے رہتے ہیں

کبھی لمبی تان کے سوتے ہیں

ہم نازک نازک دل والے

بس اپنے آپ میں رہتے ہیں

ہم کون کسی کے ہوتے ہیں

ہم نازک نازک دل والے

..تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے

کتنا سہل جانا تھا

خوشبوؤں کو چھو لینا

بارشوں کے موسم میں شام کا ہرایک منظر

گھر میں قید کر لینا

روشنی ستاروں کی مٹھیوں میں بھر لینا

کتنا سہل جانا تھا

خوشبوؤں کو چھو لینا

جگنوؤں کی باتوں سے پھول جیسے آنگن میں

روشنی سی کرلینا

اس کی یاد کا چہرہ خوابناک آنکھوں کی

جھیل کے گلابوں پر دیر تک سجا رکھنا

کتنا سہل جانا تھا

اے نظر کی خوش فہمی ! اس طرح نہیں ہوتا

“تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے“

...پھر ایک تیلی جلا رہا ہوں

پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں

پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں

تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے

میں تو اسکا وعدہ بھلا رہا ہوں میں

سمجھنا مت اسکو میری عادت

یہ دھواں جو میں اڑا رہا ہوں

یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں

میں تیری یادیں جلا رہا ہوں

میں پی کے اتنی بھک چکا ہوں

کی غم کے قصے سنا رہا ہوں

اگر تمہیں غم ہے تو پاس آؤ

میں پی رہا ہوں پلا رہا ہوں

پھر ایک تیلی جلا رہا ہوں