Friday, November 12, 2010
بچھڑنے سے ذرا پہلے
کیا تم بھی ،،،،،؟؟
شام کی دہلیز پہ آس کا دیپ جلاتے ھو
اور کسی آوارے پتے کی آہٹ پر
دروازے کی طرف ھاگے جاتے ھو
کیا تم بھی ،،،،،؟؟
درد چپانے کی کوشش کرتے کرتے
اکثر تھک سے جاتے ھو
اور بلاوجہ مسکراتے ھو
کیا تم بھی ،،،،،؟؟
نیند سے پہلے پلکوں پر ڈھیروں خواب سجاتے ھو
یا پھر بستر پر لیٹ کر
روتے روتے سوجاتے ھو
کیا تم بھی ،،،،،؟؟
......بچھڑنا
تم تو عزم والے ہو
بلا کا ضبط رکھتے ہو
تمہیں کچھ بھی ہیں ہوگا
مگر دیکھو۔۔۔۔۔
جسے تم نے چھوڑ دیا ہے
اسے تو ٹھیک سے شاید
میری گڑیا لادے
مجھے تم سے محبت ہے
مرے ساتھی
مری یہ روح میرے جسم سے پرواز کر جائے
تو لوٹ آنا
مری بے خواب راتوں کے عذابوں پر
سسکتے شہر میں تم بھی
ذرا سی دیر کو رکنا
مرے بے نور ہونٹوں کی دعاؤں پر
تم اپنی سرد پیشانی کا پتھر رکھ کے رو دینا
بس اتنی بات کہہ دینا
مجھے تم سے محبت ہے
"لمحے روٹھ بھی جاتے ہیں"
رات کی چنچل سکھیوں میں
اپنی ریشمی پلکوں سے
کوئی خواب کبھی مت بننا
سپنے ٹوٹ بھی جاتے ہیں
جو بھی آس لگائے اس سے،پگلا ہے سودائی ہے
کسی کو بھی اپنا مت کہنا
ساتھی چھوٹ بھی جاتے ہیں
سارے تتلیوں جیسے ہیں
رنگوں کی صورت میں آخر ہاتھوں پر رہ جائیں گے
جانے والے ہر اک پل کو پلکوں بیچ چھپالو تم
ورنہ ایسا بھی ہوتا ہے
Tuesday, November 2, 2010
...ہم نازک نازک دل والے
کبھی ہستے ہیں کبھی روتے ہیں
کبھی دل میں خواب پیروتے ہیں
کبھی محفل محفل پھرتے ہیں
اور ذات میں تنہا ہوتے ہیں
کبھی چھپ کے موحار سجاتے پیں
کبھی گیت لبوں پہ ہوتے ہیں
کبھی سب کا دل بہلاتے ہیں
کبھی ذات میں تنہا ہوتے ہیں
کبھی شب بھر جاگتے رہتے ہیں
کبھی لمبی تان کے سوتے ہیں
ہم نازک نازک دل والے
بس اپنے آپ میں رہتے ہیں
ہم کون کسی کے ہوتے ہیں
ہم نازک نازک دل والے
..تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے
کتنا سہل جانا تھا
خوشبوؤں کو چھو لینا
بارشوں کے موسم میں شام کا ہرایک منظر
گھر میں قید کر لینا
روشنی ستاروں کی مٹھیوں میں بھر لینا
کتنا سہل جانا تھا
خوشبوؤں کو چھو لینا
جگنوؤں کی باتوں سے پھول جیسے آنگن میں
روشنی سی کرلینا
اس کی یاد کا چہرہ خوابناک آنکھوں کی
جھیل کے گلابوں پر دیر تک سجا رکھنا
کتنا سہل جانا تھا
اے نظر کی خوش فہمی ! اس طرح نہیں ہوتا
“تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے“
...پھر ایک تیلی جلا رہا ہوں
پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
میں تو اسکا وعدہ بھلا رہا ہوں میں
سمجھنا مت اسکو میری عادت
یہ دھواں جو میں اڑا رہا ہوں
یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
میں تیری یادیں جلا رہا ہوں
میں پی کے اتنی بھک چکا ہوں
کی غم کے قصے سنا رہا ہوں
اگر تمہیں غم ہے تو پاس آؤ
میں پی رہا ہوں پلا رہا ہوں
پھر ایک تیلی جلا رہا ہوں