Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Friday, April 22, 2011

... دردِ دل

دردِ دل بھی غمِ دوراں کے برابر سے اٹھا
آگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھا

تابشِ حُسن بھی تھی ، آتشِ دنیا بھی مگر
شُعلہ جس نے مجھے پُھونکا، میرے اندر سے اٹُھا

کسی موسم کی فقیروں کو ضرورت نہ رہی
آگ بھی ، ابَر بھی، طُوفان بھی ساغَر سے اٹُھا

بے صَدف کتنے ہی دریاوں سے کچھ بھی نہ ہوا
بوجھ قطرے کا تھا ایسا کہ سمندر سے اٹھا

چاند سے شکوہ بہ لب ہوں کہ سُلایا کیوں تھا
میں کہ خورشیدِ جہاں تاب کی ٹھوکر سے اٹُھا

... ترے التفات

جو دن گزر گئے ہیں ترے التفات میں
میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا دوں حیات میں

کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی
دنیا تو لُطف لے گی مرے واقعات میں

میرا تو جرم تذکرہء عام ہے مگر
کچھ دھجیاں ہیں میری زُلیخا کے ہاتھ میں

آخر تمام عمر کی وسعت سما گئی
اک لمحہء گزشتہ کی چھوٹی سے بات میں

اے دل ذرا سی جرأت رندی سے کام لے
کتنے چراغ ٹوٹ گئے احتیاط میں

...انتہا


ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
قدم رکھا کہ منزل راستہ تھی

کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہے
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی

جسے چھو لوں میں وہ ہو جائے سونا
تجھے دیکھا تو جانا بددعا تھی

محبت مر گئی مجھ کو بھی غم ہے
میرے اچھے دنوں کی آشنا تھی

میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا
میرے انجام کی وہ ابتداء تھی

مریضِ خواب کو تو اب شفا ہے
مگر دنیا بڑی کڑوی دوا تھی

بچھڑ کر ڈار سے بن بن پھرا وہ
ہرن کو اپنی کستوری سزا تھی

... کھونے کے غم

مثال اس کی کہاں ہے زمانے میں
کہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میں

وہ شکل پگھلی تو ہر شے میں ڈھل گئی جیسے
عجیب بات ہوئی ہے اسے بھلانے میں

جو منتظر نہ ملا وہ تو ہم ہیں شرمندہ
کہ ہم نے دیر لگا دی پلٹ کے آنے میں

لطیف تھا وہ تخیل سے خواب سے نازک
گنوا دیا ہم نے ہی اسے آزمانے میں

سمجھ لیا تھا کبھی ایک سراب کو دریا
پر ایک سکون تھا ہم کو فریب کھانے میں

جُھکا درخت ہوا سے تو آندھیوں نے کہا
زیادہ فرق نہیں جھک کے ٹوٹ جانے میں

...نشانی

جاتے جاتے وہ مجھے اچھی نشانی دے گیا
عمر بھر دہراؤں گا ایسی کہانی دے گیا

اس سے میں کچھ پا سکوں ایسی کہاں امید تھی
غم بھی وہ شاید برائے مہربانی دے گیا

سب ہوائیں لے گیا میرے سمندر کی کوئی
اور مجھ کو ایک کشتی بادبانی دے گیا

خیر میں پیاسا رہا پر اس نے اتنا تو کیا
میری پلکوں کی قطاروں کو وہ پانی دے گیا

...اکیلے


ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے

اک طرف مورچے تھے پلکوں کے
اک طرف آنسوؤں کے ریلے تھے

تھیں سجی حسرتیں دُکانوں پر
زندگی کے عجیب میلے تھے

خود کشی کیا دُکھوں کا حَل بَنتی
موت کے اپنے سو جھمیلے تھے

ذہن و دل آج بُھوکے مرتے ہیں
اُن دنوں ہم نے فاقے جھیلے تھے

...حالات


وہی حالات ابتداء سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے

بے وفا تم بھی نہ تھے لیکن
یہ بھی سچ ہے کہ بے وفا سے رہے

ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا
کیوں گلے پھر ہمیں ہوا سے رہے

بحث ، شطرنج ، شعر ، موسیقی
تم نہیں رہے تو یہ دلاسے رہے

اس کے بندوں کو دیکھ کر کہیے
ہم کو امید کیا خدا سے رہے

زندگی کی شراب مانگتے ہو
ہم کو دیکھو کہ پی کے پیاسے رہے

...خواب کے گاؤں

خواب کے گاؤں میں پَلے ہیں ہم
پانی چَھلنی میں لے چلے ہیں ہم

چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میں
دودھ سے کِس طرح جَلے ہیں ہم

خود ہیں اپنے سفر کی دشواری
اپنے پَیروں کے آبلے ہیں ہم

تُو تو مَت کہہ ہمیں بُرا دُنیا
تُو نے ڈھالا ہے اور ڈَھلے ہیں ہم

کیوں ہیں کب تک ہیں کس کی خاطر ہیں
بڑے سنجیدہ مسئلے ہیں ہم

...دل کے پھول


دل کے پھول بھی کھلتے ہیں ، بکھر جاتے ہیں
زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی
سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں

راستہ روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے
کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

نرم آواز، بھلی باتیں، مہذب لہجتے
پہلی بارش میں ہی یہ رنگ اتر جاتے ہیں

...تیری گلی

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

مدّت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم

شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آسکے
تم داستانِ شوق سنو اور سنائیں ہم

بے نور ہوچکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

اُس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم