Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Wednesday, October 5, 2011

مستقبل


تیرے لیے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوں
سنگینوں کے راج میں بھی سچ کہتا ہوں
میری راہ میں مصلحتوں کے پُھول بھی ہیں
تیری خاطر کانٹے چنتا رہتا ہوں
تُو آئے گا اسی آس پر جُھوم رہا ہے دل
دیکھ اے مستقبل
اِک اِک کرکے سارے ساتھی چھوڑ گئے
مجھ سے میرے رہبر بھی منہ موڑ گئے
سوچتا ہوں بیکار گِلہ ہے غیروں کا
اپنے ہی جب پیار کا ناتا توڑ گئے
تیرے بھی دشمن ہیں میرے خوابوں کے قاتل
دیکھ اے مستقبل
جہل کے آگے سر نہ جھکایا میں نے کبھی
سِفلوں کو اپنا نہ بنایا میں نے کبھی
دولت اور عہدوں کے بل پر جو اینٹھیں
ان لوگوں کو منہ نہ لگایا میں نے کبھی
میں نے چور کہا چوروں کو کھل کے سرمحفل
دیکھ اے مستقبل

حبیب جالب

گلیڈی ایٹرز ...

ہم اپنے قتل ہونے کا تماشہ دیکھتے ہیں
تو اپنی تیز ہوتی سانس کے کانوں میں کہتے ہیں
” ابھی جو ریت پر لاشہ گرا تھا
میں نہیں تھا
میں تو زندہ ہوں ۔۔۔۔ یہاں
دیکھو
مری آنکھیں، مرا چہرہ، مرے بازو
سبھی کچھ تو سلامت ہے“
ابھی کل ہی کا قصّہ ہے
سرِ مقتل ہمارے دست و بازو کٹ رہے تھے
پہ ہم اپنے گھروں میں مطمئن بیٹھے ہوئے
ٹی وی کے قومی نشریاتی رابطے پر
سارے منظر دیکھتے تھے
اور یہ کہتے تھے
” نہیں یہ ہم نہیں ہیں“
ہماری آستیں پر خون کے دھبّے ابھی تازہ ہیں
سُوکھے بھی نہیں

امجد اسلام امجد

تیرا سپنا امر سمے تک...


تیرا سپنا امر سمے تک
اپنی نیند ادھُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

کالے پنکھ کُھلے کوئل کے
کُوکی بن میں دُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

تیرے تن کا کیسر مہکے
خوشبو اُڑے سندھُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

میرا عشق زمیں کی مٹی
ناں ناری ناں نُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

سزا جزا مالک کا حصہ
بندے کی مزدُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

تیرا ہجر رُتوں کی ہجرت
تیرا وصل حضُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

تیری مُشک بدن کا موسم
جوبن رس انگُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

بوسہ بوسہ انگ انگ میں
کس نے گُوندھی چُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

تیرا کِبر ، تیری یکتائی
اپنا من منصُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

تن کو چِیر کے پُھوٹی خواہش
کیا ظاہر مستُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری

سرمد صہبائی

سورج! تیری آگ بُجھے گی کتنے پانی سے؟


سوچ رہی ہے جانے کب سے آدم کی اولاد
ایک ہی بیج سے جب یہ اتنے ڈھیروں پیڑ اُگے
ایک ہی پیڑ کی شاخ شاخ پہ مہکے جو سب پُھول
ایک ہی پُھول کے دامن میں جو سارے رنگ بھرے
پھر یہ کیسا فرق ہے ان میں، کیسا ہے اُلجھاؤ ؟
ایک ہی پُھول کی ہر پتی میں دُنیا ایک نئی
ایک ہی شاخ پہ کِھل اُٹھتے ہیں کیسے کیسے پُھول
ایک ہی پیڑ پہ مِل جاتے ہیں باہم رنگ کئی
لیکن ان کے میل میں بھی ہے اِک دُوری موجود
کھا جاتے ہیں زرد سیہ کو سُرخ اور گہرے رنگ
زورآور سے دب جاتے ہیں، جتنے ہیں کمزور
طاقت والے ہو جاتے ہیں طاقتور کے سنگ
پوچھ رہی ہے جانے کب سے آدم کی اولاد
سُکھ کا دن کب پیدا ہوگا، رات کہانی سے؟
دھرتی! تیرا پیٹ بھرن کو کتنی مٹی ہو؟
سورج! تیری آگ بُجھے گی کتنے پانی سے؟

امجد اسلام امجد

محبت کرنے والے دل


محبت کرنے والے دل
بس ان کا ایک ہی محور
بس ان کا ایک ہی مرکز
بس ان کی ایک ہی منزل
بس ان کی جستجو کا اور تڑپ کا
ایک ہی حاصل
انہیں بس ایک ہی دُھن ہے
خدا محبوب کو ان کے
ہمیشہ شادماں رکھے
نہ اس کا دل کبھی ٹوٹے
نہ کوئی سانحہ گزرے
کوئی غم چُھو نہیں پائے
اُداسی پاس نہ آئے
محبت کرنے والے دل
بہت حسّاس ہوتے ہیں
محبت کرنے والے دل
کبھی سودا نہیں کرتے
نہ کوئی شرط رکھتے ہیں
نہ ان کے معاوضے کی حرص ہوتی ہے
کسی ردّعمل سے یا بدلے سے
ان کو کیا مطلب
انا سے ان کا کیا رشتہ
جفا سے کیا علاقہ
انہیں تو ایک ہی دھن ہے
خدا محبوب کو ان کے
ہمیشہ شادماں رکھے

خلیل اللہ فاروقی

جاناں میری بات سُنو...


کچھ لمحے
ان درد میں ڈُوبی پلکوں کے سنّاٹے میں
کچھ خواب بُنو
کچھ لمحے
تم تِتلی بن کر تنہائی کے غاروں
میں بے باک اُڑو
کچھ لمحے
تم اُنگلی پکڑ کر خاموشی کی
پگڈنڈی پر ساتھ چلو
کچھ لمحے
اُس نیلی بارش کے منظر میں رنگ بھرو
دل چاہتا ہے
تم آج ہمارے ساتھ رہو
جاناں میری بات سُنو

محبت رُت میں لازم ہے...



سُنو جاناں
محبت رُت میں لازم ہے
بہت عُجلت میں یا تاخیر سے وہ مرحلہ آئے
کوئی بے درد ہو جائے
محبت کی تمازت سے بہت بھرپُور سا لہجہ
اچانک سرد ہو جائے
گُلابی رُت کی چنچل اوڑھنی بھی زرد ہو جائے
تو ایسے موڑ پر ڈرنا نہیں، رُکنا نہیں، گھبرا نہیں جانا
غضب ڈھاتی ہوئی سفّاک موجوں سے
کسی بھی سُرخ طوفاں سے
بہت نازک سی، بے پتوار دل کی ناؤ کو اُس پل
ہمیں دوچار کرنا ہے
ہمارا عہد ہے خود سے
کسی قیمت پہ بھی ہم کو
سمندر پار کرنا ہے

یہ بارشیں بھی تُم سی ہیں...


یہ بارشیں بھی تُم سی ہیں
جو برس گئیں تو بہار ہیں
جو ٹھہر گئیں تو قرار ہیں
کبھی آ گئیں یونہی بے سبب
کبھی چھا گئیں یونہی روز و شب
کبھی شور ہیں، کبھی چُپ سی ہیں
یہ بارشیں بھی تُم سی ہیں
کسی یاد میں، کسی رات کو
اِک دبی ہوئی سی راکھ کو
کبھی یوں ہوا کہ بُجھا دیا
کبھی خود سے خود کو جلا دیا
کبھی بُوند بُوند میں غم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تُم سی ہیں

یادوں کی راکھ...


میرا کل، میرا ماضی ہے
اِس ماضی کی کچھ یادیں ہیں
اِس ماضی کی تحریریں ہیں
اور ڈھیر سی تصویریں ہیں
یہ ماضی مجھے جینے نہیں دیتا
کچھ آگے چلنے نہیں دیتا
اِسی لئے میں سوچتا ہوں
کیوں نہ اِن یادوں کا آج
ڈھیر لگا کر
تحریریں، تصویریں جلا کر
اور اِن کی پھر راکھ بنا کر
کھڑکی کھول کے، تیز ہوا میں
راکھ یہ آج، اُڑا دیتا ہوں
دل سے تُجھے بُھلا دیتا ہوں

راکھ راکھ رُتیں ...


یہ راکھ راکھ رُتیں، اپنی رات کی قسمت
تم اپنی نیند بچھاؤ، تم اپنے خواب چُنو
بِکھرتی ڈُوبتی نبضوں پہ دھیان کیا دینا
تم اپنے دل میں دھڑکتے ہوئے حرف سُنو
تمارے شہر کی گلیوں میں سیلِ رنگ بخیر
تمہارے نقشِ قدم پھول پھول کِھلتے رہیں
وہ راہگزر، جہاں تم لمحہ بھر ٹھہر کے چلو
وہاں پہ ابر جھکیں، آسماں ملتے رہیں
نہیں ضرور کہ ہر اجنبی کی بات سُنو
ہر اِک صدا پہ دھڑکنا بھی دل کا فرض نہیں
سکوتِ حلقۂ زنجیر ِدر کیوں ٹُوٹے
صبا کا ساتھ نِبھانا جنوں پہ قرض نہیں
ہم ایسے لوگ بہت ہیں جو سوچتے ہی نہیں
کہ عمر کیسے کٹی، کس کے ساتھ بِیت گئی
ہماری تشنہ لبی کا مزاج کیا جانے
کہ فصل بخششِ موجِ فرات بِیت گئی
یہ اِک پل تھا جسے تم نے نوچ ڈالا
وہ اِک صدی تھی جو بے التفات بِیت گئی
ہماری آنکھ لہو ہے تمہیں خبر ہو گی
چراغ خود سے بُجھا ہے کہ رات بِیت گئی