Dast-e-Taqdeer Se Har Shakhs Nay Hissa Paya,Mere Hissay Main Teray Saath Ki Hasrat Aai...!!

Sunday, March 6, 2011

گواہي ۔۔۔

تمھاري بيٹھے بيٹھے چونک اُٹھنا،
کھوئے رہنا، کچھ نہ کہنا
اُفق کے پار تکنا، کھوجنا اور کچھ نہ کہنا
ہر اک دستک پہ در کے پاس جا کر پھر پلٹ آنا
کبھي کاغذ پہ کچھ لکھنا اور اس کو پھاڑ بھي دينا
گواہي دے رہا ہے يہ
تمھيں اب بھي يقيں ہے جانے والا لوٹ آئے گا

Saturday, March 5, 2011

...پانیوں کی تحریریں

پانیوں پہ مت لکھو
پانیوں پہ لکھنے کی،عادتیں نہیں اچھی
ان پہ جو بھی لکھو گے
وصل ہو کہ فرقت ہو
درد ہو کہ لذت ہو
دائمی نہیں ہوتا
پانیوں کی تحریریں بے ثبات ہوتی ہیں
خوش گمان کرتی ہیں
بے نشان کرتی ہیں

Thursday, February 17, 2011

...مجھے چھوڑ جا

مجھے چھوڑ جا
یہ سفر نہیں عذاب ہے
یہاں ہر قدم پہ سراب ہے
یہاں بے وفائی رواج ہے
ابھی ہوش کھونے کے دن ہیں
ابھی تیرے رونے کے دن ہیں
ابھی وقت ہے مجھے چھوڑ جا
ابھی ساری نگری اندھیر ہے
ابھی دن نکلنے میں دیر ہے
ابھی بحرِ عشق میں نہ اُتر
ابھی شہر سارا ہے بے خبر
ابھی وقت ہے مجھے چھوڑ جا
ابھی وقت ہے مجھے چھوڑ جا

Wednesday, February 16, 2011

...خواہشوں کا ڈھانچہ

نگارِ غم تری آہٹ پہ جب سے جاگا ہوں
میں خواب خواب بھنور آئنوں کو تکتا ہوں

نہ کوئی رنگ توقع‘ نہ نقشِ پائندہ
کسے بتاؤں کہ کن خواہشوں کا ڈھانچہ ہوں

کسے دکھاؤں وہ آنکھیں جو جیت بھی نہ سکا
کسے بتاؤں کہ کن آنسوؤں کا سپنا ہوں

نہ تازگی ہی بدن میں نہ پُرسکون تھکن
میں شاخِ عمر کا وہ زرد و سبز پتا ہوں

جہاں یقین کے تلووں میں آبلے پڑ جائیں
میں حادثات کی ان گھاٹیوں میں اُترا ہوں

وہ نغمگی جسے سازِ سلیقگی نہ ملا
میں تشنہ رنج اُسی کا سراب پیما ہوں

یہ اور بات قرینے کی موت بھی نہ ملی
مگر یہ دیکھ کہ کس تمکنت سے زندہ ہوں

جو پڑھ سکے تو بہت ہے یہ ملگجی صورت
میں تیرے دُکھ کا بدن ہوں میں تیرا سایہ ہوں

ورق ورق ہوں مگر صحن زیست میں احمد
مشاہدات کے جوہر کا اک ذخیرہ ہوں

....خواہشوں کے طاس

سوکھے ہوئے لبوں کی صدا کا اسیر ہوں
میں خواہشوں کے طاس کی ٹیڑھی لکیر ہوں

ہر لمحہ رُخ بدلتے مزاجوں کو کیا کہوں
میں آپ اپنے شہر میں اپنی نظیر ہوں

جسموں کی تیز آنچ سے محفوظ رکھ مجھے
اے شورشِ حیات! میں اب گوشہ گیر ہوں

دستِ طلب دراز کروں کس کے سامنے
آئے نہ جس پہ حرفِ انا وہ فقیر ہوں

ردِعمل ہے تو مرے خوابِ سکون کا
یا میں تری جبیں کی ادُھوری لکیر ہوں

احمد میں کس کے لب سے غزل پرورش کروں
غالب ہوں میں نہ شہر تغزل کا میر ہوں

.....کیا ہے

نعرہ تن تنانا‘ تن تنانا ہُو کیا ہے
دشت کہتے ہیں کسے‘ کون ہوں میں‘ تو کیا ہے

روح گھائل ہے بھلا کیسے بدن کو سمجھائے
اس کڑی دھوپ میں تسکین کا پہلو کیا ہے

تجھ سے اک پل بھی جدا ہوں تو تڑپ اُٹھتا ہوں
اے مرے پیار کی آسودہ خلش! تو کیا ہے

کونپلیں شاخ پہ پھوٹیں بھی تو جل جاتی ہیں
پیڑ حیراں ہیں‘ نمو چیز ہے کیا‘ لُو کیا ہے

تو فرشتہ ہے نہ جب قادرِ لغزش احمد
یہ اَنا کیا ہے تری اور یہ تری خو کیا ہے

...تیرے غم کا چراغ


منجمد ہو گیا لہو دل کا
تیرے غم کا چراغ کیا جلتا

وہ بھی دن تھے کہ اے سکونِ نظر!
تو مری دسترس سے باہر تھا

بجھ گئی پیاس آخرش اے دل!
ہو گیا خشک آنکھ کا دریا

تو مرا پیار مجھ کو لوٹا دے
جانے والے اُداسیاں نہ بڑھا

پاس خاطر ہے شہر میں کس کو
کون کرتا ہے اعترافِ وفا

تیری خواہش بھنور بھنور ساحل
میری منزل سکوت کا صحرا

پوچھتی تھی خزاں بہار کا حال
شاخ سے ٹوٹ کر گرا پتا

کیسے ٹھہرے ہو سوچ میں احمد
اتنی سردی میں رات کو تنہا

...اعتماد کے بازو

خاک آلود ہو گئے ابرو
کٹ گئے اعتماد کے بازو

تیرے جذبے کے ہاتھ پتھر ہیں
میری سوچوں کے پاؤں میں گھنگرو

سینۂ سنگ بھی دھڑکنے لگا
چل گیا تیری آنکھ کا جادو

گونجتا ہے دماغ سوچوں سے
برہنہ ہے سکون کا پہلو

اس اُداسی کو کون دور کرے
وہم کا کس کے پاس ہے دارو

دھڑکنوں کا شکیب ٹوٹتا ہے
کس لیے چپ ہے میرے داتا تو!

کس مسافت کے بعد پہنچا ہے
تیرے رُخسار پر مرا آنسو

ہر خوشی کو جھلس گئی احمد
شہر انفاس میں دُکھوں کی لو

.... ضبط کی شہ رگ

شاخِ آشوب پہ کب کوئی کلی کھلتی ہے
یہ الگ بات کہ اک آس لگا رکھی ہے

کتنا ساکت ہے ترے عہد کے اخلاص کا جسم
سوچ کی آنکھ بھی پتھرائی ہوئی لگتی ہے

پھر کوئی تازہ مصائب کا بھنور دیکھیں گے
آب تسکیں پہ کوئی لہر نئی اُبھری ہے

حوصلہ ہار گیا دل تو چھٹی درد کی دُھند
سوچ کے پاؤں ہوئے شل تو سحر دیکھی ہے

آنکھ ہر لمحہ نئے جھوٹ میں سرگرداں ہے
دل ہر اک لحظہ نئی چوٹ کا زندانی ہے

اب کسے دل میں جگہ دیں کہ جسے پیار کیا
کاہشِ رنج ہی معیارِ وفا ٹھہری ہے

سرِ تسلیم ہے خم‘ شوق سے آوازہ کسو
چپ کی تلوار سے یہ سنگ زنی اچھی ہے

نہ کوئی رنگِ تبسم‘ نہ حرارت کی رمق
زندگی ہے کہ کوئی سوکھی ہوئی ٹہنی ہے

سخت بوجھل ہوں میں اب دُکھ کے سفر سے احمد
رات دن ضبط کی شہ رگ سے لہو جاری ہے

...بہت دُور تک گئی

دوش ہوا کے سات بہت دُور تک گئی
خوشبو اُڑی تو رات بہت دُور تک گئی

بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپ
شب‘ رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی

یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہر
برقِ تبسمات بہت دُور تک گئی

خورشید کی تلاش میں نکلا جو گھر سے میں
تاریکیِ حیات بہت دور تک گئی

احمد سفر کی شام عجب مہرباں ہوئی
اک عمر میرے سات بہت دور تک گئی